بی اے پی نے وفاقی حکومت کی حمایت واپس لینے پر غور شروع کر دیا

کوئٹہ ( نیوز ڈیسک ) بلوچستان عوامی پارٹی نے وفاقی حکومت کے لیے اپنی حمایت واپس لینے پر غور شروع کر دیا ۔ اے آر وائی نیوز نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ جام کمال گروپ کے بی اے پی کے ارکان پارلیمنٹ کی ایک اہم میٹنگ ہوئی ، جس میں ارکان نے تجویز دی کہ پی ڈی ایم کی جن جماعتوں نے عمران خان کی تبدیلی کے وقت انہیں بلوچستان میں عدم اعتماد اور تبدیلی کے حوالے سے جو یقین دہانیاں کرائی تھیں اگر وہ اس پر عمل درآمد نہیں کرتیں تو پھر وفاقی حکومت کی حمایت واپس لینے پر غور کیا جائے اور

اگر پی ڈی ایم ساتھ نہیں دیتی تو وفاقی حکومت میں شمولیت کا فیصلہ واپس لیا جائے ۔خیال رہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی نے شہباز حکومت کو قومی اسمبلی میں 4 ووٹ دیے تھے اس وقت وفاقی حکومت کو ایوان میں صرف 2 ووٹوں کی برتری حاصل ہے ، ایسے میں اگر بی اے پی اپنی حمایت واپس لیتی ہے تو 2 ووٹوں کی اکثریت پر کھڑی وفاقی حکومت ختم ہو جائے گی۔بتاتے چلیں کہ وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی گئی ہے ، تحریک عدم اعتماد پر14 اراکین اسمبلی پر دستخط موجود ہیں ، اس حوالے سے سابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے کہا کہ بلوچستان حکومت کی کارکردگی کو بہتر نہیں سمجھا جا رہا تھا، بلوچستان کے حالات اچھے ہوں گے، ہم چاہتے ہیں کہ معاملات بہتر ہوں۔جام کمال نے کہا کہ 6،7 ماہ میں کچھ سیاسی معاملات پر ہمارے تحفظات تھے، ہمیں شوق نہیں کہ حکومت بار بار بدلتی رہے، وفاق میں عدم اعتماد کی تحریک چلی تو ہم نے بار بار پریس کانفرنس کی، بلوچستان کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر مزید خاموشی اختیار نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق میں عدم اعتماد کی تحریک کے دوران ہمارا مختلف سیاسی جماعتوں سے رابطہ رہا، تمام ملاقاتوں میں ہمارا ایک نکاتی ایجنڈا تھا،

ہم نے ہمیشہ بلوچستان کے حق کی بات کی، پی ڈی ایم کی ساری جماعتوں نے ہمارے مؤقف پر یقین دہانی کرائی، مشاورت سے فیصلہ کیا کہ پہلا قدم ہمیں اٹھانا ہوگا، ہمارا ہم خیال گروپ پہلے دن سے ہمارے ساتھ ہے، ہرگز نہیں کہہ رہے کہ اپوزیشن کے اراکین بھی ہمارے ساتھ ہیں، اس تحریک میں تیزی آئے گی، سیاست میں بار بار تبدیلی سے ہمارے لئے بھی لمحہ فکریہ ہوتا ہے، اگر ملک نقصان میں جا رہا ہو تو پھر ایسی حکومت کو نہیں چلنا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں