آئی ایم ایف نے پٹرول کی قیمت بڑھائے بغیر قسط جاری کرنے سے انکارکردیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) آئی ایم ایف نے قرض قسط کیلئے تیل اور بجلی پر سبسڈی ختم کرنے کا مطالبہ کردیا، آئی ایم ایف نے کہا کہ پاکستان کا شرح سود بڑھانا خوش آئندہ اقدام ہے، پیٹرول کی قیمت بڑھائے بغیر قسط جاری نہیں ہوگی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کا اعلامیہ جاری کردیا گیا، اعلامیہ میں بتایا گیا کہ آئی ایم ایف نے تیل اور بجلی پر سبسڈی کے خاتمہ کا مطالبہ کیا ہے، آئی ایم ایف نے شرح سود میں اضافہ کو خوش آئند اقدام قرار دیا۔آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان طے شدہ پالیسی سے انحراف کیا گیا، پاکستان کے ساتھ بات چیت جاری رہے گی۔

آئی ایم ایف نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت بڑھائے بغیر قرض کی قسط دینے سے انکار کردیا ہے، پیٹرول کی قیمت بڑھائے بغیر قسط جاری نہیں ہوگی، آئی ایم ایف نے پاکستان کے تمام مطالبات سے اتفاق کرلیا تھا، قسط اجرا پروگرام کا دورانیہ بڑھانا بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت بڑھانے سے مشروط کیا گیا ہے، پاکستانی وفد وزیراعظم شہبازشریف سے بات چیت کے بعد آئی ایم ایف کو جواب سے متعلق آگاہ کرے گا۔واضح رہے میڈیا رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف نے دوحہ میں جاری مذاکرات کے دوران پٹرول پر لیوی 30 روپے فی لٹر عائد کرنے اور بجلی 3 روپے 94 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق شہباز شریف حکومت آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کیلئے کوشاں ہیں، تاہم بین الاقوامی مالیاتی ادارے کی جانب سے اپنی شرائط پر عملدرآمد کے حوالے سے سخت موقف اختیار کیا گیا ہے۔دنیا نیوز کی رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف حکام کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ جنوری 2022 میں طے شدہ ایکشن پلان پر عملدرآمد کیا جائے، پارلیمنٹ کے منظور شدہ روڈ میپ پر عمل درآمد چاہتے ہیں۔ آئی ایم ایف نے پٹرول پر لیوی 30 روپے فی لٹر عائد کرنے اور بجلی 3 روپے 94 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی یقین دہانی پر عمل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔یہاں واضح رہے کہ عالمی مالیاتی ادارے سے مذاکرات کے حوالے سے گزشتہ روز وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی جانب سے کہا گیا تھا کہ وزیر اعظم نے کی ہدایت ہے کہ قوم پیٹرولیم مصنوعات میں مزید اضافے کی متحمل نہیں ہے،

اس لیے آئی ایم ایف سے قیمتیں بڑھانے کے لیے وقت مانگیں گے۔ وزیر اعظم نے کہا ہے کہ اس وقت یہ قوم قیمتوں میں اضافے کے متحمل نہیں ہوسکتے اس لیے میں آئی ایم ایف کے پاس جاؤں گا اور کہوں گا کہ میں مانتا ہوں کہ سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ قیمتیں بڑھائیں گے لیکن ہمیں اس کے لیے کچھ وقفہ دیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں