تحریک انصاف کے کارکن رکاوٹیں ہٹانے میں کامیاب، مظاہرین کی بڑی تعداد ڈی چوک اسلام آباد پہنچ گئی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) تحریک انصاف کے کارکن رکاوٹیں ہٹانے میں کامیاب۔ تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے مظاہرین کا پہلا قافلہ ڈی چوک اسلام آباد کے مقام پر پہنچ گیا ہے۔ تحریک انصاف کے مظاہرین کی بڑی تعداد رکاوٹیں ہٹاتے ہوئے ڈی چوک اسلام آباد پہنچ گئی۔ اس دوران پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شدید شیلنگ بھی کی گئی، اس کے باوجود تحریک انصاف کے کارکن ڈی چوک پہنچ گئے۔جبکہ جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد کے شہری بھی ڈی چوک پہنچنا شروع ہو گئے، خواتین کی بھی بڑی تعداد عمران خان کے اعلان کردہ مقام پر موجود ہے۔

دوسری جانب تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا قافلہ پنجاب کی حدود میں داخل ہونے کے بعد اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہے۔سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی والے ڈی چوک پہنچنےکی پوری کوشش کریں، میں ڈیڑھ گھنٹے تک اسلام آباد پہنچ جاوں گا۔انہوں نے ٹویٹر پر بھی لانگ مارچ سے متعلق پیغام جاری کیا اور لانگ مارچ میں شامل قافلے کی فوٹیج بھی جاری کی۔ سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم پنجاب میں داخل ہوچکے ہیں اور انشاءاللہ اسلام آباد کی جانب بڑھیں گے۔ اس امپورٹڈ سرکار کی جانب سے جبر و فسطائیت کا کوئی بھی حربہ ہمیں ڈرا سکتاہے نہ ہی ہمارے مارچ کا رستہ روک سکتا ہے۔دوسری جانب سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کو اسلام آباد میں جلسہ کرنے کی اجازت دے دی ہے، سپریم کورٹ آف پاکستان نے پی ٹی آئی لانگ مارچ سے متعلق کیس کی سماعت کی، سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کو اسلام آباد میں جلسے کی اجازت دے دی، عدالت نے پی ٹی آئی کو ایچ نائن اور جی نائن کے درمیان گراونڈ میں جلسہ گاہ فراہم کرنے کا حکم دیا۔ جے یوآئی کو جو گراونڈ فراہم کیا گیا وہی پی ٹی آئی کو بھی دیا جائے،ایسا پلان دیا جائے لوگ پرامن جلسہ گاہ میں آئیں اور واپس چلے جائیں، یہ نہ ہو کہ جلسے کے بعد فیض آباد یا موٹروے بند کردی جائے۔اسی طرح سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کے کارکنان کو گرفتار کرنے سے بھی روک دیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ جن سیاسی ورکرز اور وکلا پربڑے مقدمات نہیں ہیں، انہیں فوری رہا کردیا جائے۔

عدالت نے تحریک انصاف اور حکومتی کمیٹی کو مذاکرات کی ہدایت کی۔ چیف کمشنر اسلام آباد کے آفس میں مذاکرات کیے جائیں۔ حکومت اور پی ٹی آئی آج رات چیف کمشنر آفس میں ملاقات کرے، آئی جی پنجاب، ڈپٹی کمشنر اٹک کمیٹی کے ساتھ تعاون کرینگے۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ فیصل سبزواری، آغا جان، اسعد محمود، خالد مگسی اور اتحادی جماعتوں کے وزرا مذاکراتی کمیٹی کا حصہ ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں