تحریک انصاف کے سینئررہنما میاں محمود الرشید کو گرفتار کر لیا گیا

لاہور (نیوز ڈیسک) تحریک انصاف کے سینئر رہنما میاں محمود الرشید کو گرفتار کر لیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے تحریک انصاف کا لانگ مارچ روکنے کیلئے شروع کیے گئے کریک ڈاون میں تیزی آ گئی ہے۔ پنجاب پولیس نے پنجاب اسمبلی کے سابق اپوزیشن لیڈر اور تحریک انصاف کے سینئر رہنما میاں محمود الرشید کو 16 ایم پی او کے تحت لاہور سے گرفتار کر لیا۔پی ٹی آئی رہنما کی گرفتار منگل کی رات کو عمل میں لائی گئی۔ اس سے قبل وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ نے ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں کہا کہ وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ تحریک انصاف کو لانگ مارچ کے نام پر

فتنہ فساد پھیلانے کی اجازت نہیں دے گی، روکا جائے گا تاکہ یہ اپنا گمراہی اور قوم کوتقسیم کرنے کے ایجنڈےکو آگے نہ بڑھا سکے۔پرامن احتجاج اور اظہار رائے سب کاحق ہے مگر یہ پرامن احتجاج کرنے نہیں آرہے۔اس سے قبل حکومتی اتحادی جماعتوں کے قائدین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 25 مئی کو لانگ مارچ کے نام پر فتنہ فساد مارچ کیا جارہا ہے، یہ کوئی جمہوری مارچ نہیں بلکہ قوم کو تقسیم کرنے، ملک میں افراتفری اور انتشار کو فروغ دینے کے لیے کیا جارہا ہے. انہوں نے کہا کہ جس قسم کی یہ گفتگو کرتے رہے ہیں کہ یہ ”خونی لانگ مارچ“ ہوگا، ہم وہاں آکر فتنہ فساد پھیلائیں گے، جیسی تمام چیزیں ریکارڈ پر ہیں، یہ بھی کہا گیا کہ اس لانگ مارچ کے نتیجے میں ہم حکومت کو اٹھا کر باہر پھینک دیں گے. وزیر داخلہ نے کہا کہ 2014 میں بھی انہوں نے کہا کہ ہم پر امن احتجاج کے لیے آرہے ہیں اور اسلام آباد کی انتظامیہ سے معاہدہ کیا کہ ایک جگہ پر محدود رہیں گے لیکن وہاں رکنے کے بجائے ریڈ زون میں داخل ہوئے، وزیراعظم ہاؤس کا گھیراو¿ کیا، سول نافرمانی پر لوگوں کو اکسایا. رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ان تمام چیزوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے انہیں لانگ مارچ کے نام پر فتنہ فساد کی اجازت نہیں دی جائے گی اور انہیں روکا جائے گا تا کہ یہ قوم کو تقسیم کرنے، گمراہی کا ایجنڈا آگے نہ بڑھا سکیں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے اس سے پہلے بھی وعدہ خلافی کی تھی اور اب بھی یہ گالیوں سے

گولیوں پر آگئے ہیں جس کے باعث لاہور میں ایک پولیس کانسٹیبل بھی شہید ہوگیا. انہوں نے کہا کہ ویسے بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں لیکن اب سب ساری قیادت پشاور میں اکٹھی ہوگئی ہے کوئی اپنے گھروں میں موجود نہیں ہے اور وہاں سے یہ ایک وفاقی اکائی یعنی صوبہ خیبرپختونخوا کے تمام وسائل استعمال کر کے اور صوبائی فورسز کو ساتھ لے کر وفاق پر حملہ آور ہونے آرہے ہیں. انہوں نے کہا کہ وہاں سے یہ ایک بڑے جتھے کی صورت میں کل آنا چاہتے ہیں، ایسا جتھا جس کی کوئی قانونی، آئینی حیثیت نہ ہو اور سرکاری وسائل کو استعمال کرتے ہوئے وفاق پر حملہ آور ہونے آرہا ہو، اسی کسی قیمت پر اجازت نہیں دی جاسکتی انہوں نے کہا کہ میں خبردار کرتا ہوں ان تمام لوگوں کو جو عمرانی فتنے کا شکار ہوچکے ہیں، وہ اس گمراہی سے باہر نکلیں، یہ ایک قومی مسئلہ ہے، ملک کی بقا کا مسئلہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں