انقلاب گھر سے شروع ہوتا ہے،اپنے بیٹوں کو کہو مارچ کو فرنٹ پر لیڈ کریں، مریم نواز کی پریس کانفرنس

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ انقلاب گھر سے شروع ہوتا ہے، اپنے بیٹوں کو کہو مارچ کو فرنٹ پر لیڈ کریں، اپنے بچے ٹھنڈی ہواؤں میں اور قوم کے بچے گرم لُو کے تھپیڑے کھائیں کیوں؟ اپنے بچوں کے گلے سے تاج برطانیہ کے حلف کا طوق اتارو ، آپ نے گولی چلا کر بتا دیا کہ آپ کے ادارے ٹھیک نہیں۔انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ لا نگ مارچ کے مقاصد میں کوئی شک کی گنجائش نہیں ہے، آج قانون نافذ کرنے والے ادارے کے سینے پر گولی چلا کر بتا دیا

ہمارے ارادے کیا ہیں؟ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو تحفظ فراہم کرے ، لانگ مارچ کرنے والوں کے پاس آنسو گیس کے شیل، ڈنڈے، اسلحہ سب کو جمع کررکھا ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملہ کریں ، ان کو ماریں، خون کا کھیل کھیلیں، جب یہ حکومت سے نکالے گئے جب کرسی گئی تو انہوں نے جھوٹے خط کا ڈرامہ کیا، سازش کا ڈرامہ کیا، پھر قتل کی سازش والا ڈرامہ کیا، جب ہر طرح سے فیل ہوگئے تو پھر حالات خراب کرنے پر اتر آئے۔آج کہہ رہے تھے ملک سری لنکا بن جائے گا، یہ ملک سری لنکا نہیں بنے گا، اس کو سری لنکا بنانے کی کوشش آپ کررہے ہیں، آج جو بچہ شہید ہوا اس میں اور مریم ،حمزہ ، سلمان ، قاسم میں کیا فرق ہے؟ فرق یہ ہے کہ قاسم اور سلمان باہر رہیں گے جب کہ یہاں قوم کے بچے سینوں پر گولیاں کھائیں گے۔ انقلاب گھر سے شروع ہوتا ہے، کوئی بھی تحریک جہاد ہو تو گھر سے شروع ہوتا ہے، اپنے بچوں کو لندن میں بٹھایا ہوا ہے جبکہ قوم کے بچوں کو سخت گرمی لو میں نکال رہے ہیں، اپنے دونوں بیٹوں کو کہو کہ فرنٹ پر لیڈ کریں، آپ کے بچے تاج برطانیہ کے حلف کا گلے سے طوق اتار کرپاکستان آئیں، برٹش پاسپورٹ چھوڑیں اور پاکستان آئیں، میں نے پی ڈی ایم کی تحریک لیڈ کی، میں عورت ہوں،

چوڑیاں نہیں پہنی ہوئی، نیب کے دفتر میں عمران خان نے پتھراؤ کرایا تو میں نے کارکنوں کو آگے نہیں کیا کہ میں خود آگے کھڑی تھی، آزادی کی تحریک ہے تو اپنے بچوں کو بھی کہو وہ بھی آکر آزادی کی تحریک میں حصہ لیں، سی این این کو انٹرویو بڑامتوازن دیا اور کوئی سازش کا ذکر نہیں کیا، وہاں بھیگی بلی بنے بیٹھے ہوئے تھے، آپ کو کوئی منہ نہیں لگاتا تھا، آپ نے خارجہ پالیسی کا شیرازہ بکھیر دیا، ایک ملک جاتے دوسرے کی چغلی کرتے، پاکستان کے دوستوں کو دشمنوں کی صف میں دھکیل دیا۔انہوں نے کہا کہ کون سی آزادی ؟ آزادی کا نام فرح گوگی رکھا ہوا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں