تحریک انصاف کا لانگ مارچ، انتظامیہ کا فیض آباد انٹرچینج سیل کرنےکا فیصلہ

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لانگ مارچ کے پیش نظر انتظامیہ نے فیض آباد انٹرچینج کو سِیل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔نجی ٹی وی کے ذرائع کے مطابق راولپنڈی اور اسلام آباد پولیس کی اضافی نفری فیض آباد تعینات کردی گئی ہے،آج رات سے فیض آباد مکمل سِیل کردیا جائےگا۔ وزیر اعظم کی زیر صدارت سیاسی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں حکومت نے لانگ مارچ روکنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اجلاس میں کہا گیا عوام الناس کی حفاظت اور تحفظ یقینی بنایا جائے گا ۔ ریاست کی رٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا ۔

امن و امان میں خلل ڈالنے والوں کے خلاف کاروائی ہوگی۔ مفاد عامہ کیلئے تمام راستے کھلے رکھیں گے،کسی قسم کے تشدد یا اشتعال انگیزی پر قانون حرکت میں آئے گا۔ اجلاس میں کہا گیا دھرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلوں پر من و عن عملدرآمد ہوگا ۔اجلاس میں ملکی سیاسی اور امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا ،کابینہ نے بیرون ملک پاکستانیوں کو پارلیمنٹ میں نمائندگی دینے کے معاملے پر بھی غور کیا،وفاقی کابینہ نے ریاستی رٹ چیلنج کرنے والوں سے سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کیا ،اجلاس میں کابینہ نے کراچی پوسٹ ٹرسٹ کے ایم ڈی کو ہٹانے کی منظوری دیدی جبکہ لاپتہ افراد کے معاملے پر کل جماعتی کمیٹی قائم کر دی ،کمیٹی میں قانونی انسانی حقوق ماہرین اور وفاقی وزرا شامل ہونگے ،کمیٹی ماضی میں لاپتہ افراد کے معاملے پر قائم کمیشن کی رپورٹ کا جائزہ لے گئی،کل جماعتی کمیٹی لاپتہ افراد کے کیسز کا جائزہ لے گئی،کمیٹی لا پتہ افراد سے متعلق رپورٹ کابینہ میں پیش کرے گی۔بعد ازاں کابینہ اجلاس کے بعد وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف گالیوں سے گولیوں پر آگئی ہے ،عمرانی فتنے کی گمراہی کا شکار لوگ اس سے باہر نکلیں ، یہ قوم کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں ،

انہوں نے 2014 میں بھی کہا کہ پر امن لانگ مارچ کریں گے مگر پھر سول نا فرمانی کیلئے للکارا ،یہ پی ٹی وی اور پارلیمنٹ پر حملہ آور ہوئے تھے۔ ہم کسی کو اجازت نہیں کہ وہ اسلام آباد کو ڈکٹیٹ کرے ،پی ٹی آئی اپنے مارچ کو خونی مارچ کا نام نہ دیتی تو اجازت دے دیتے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر اسعد الرحمن نے کہا کہ حکومت حکمت عملی اور تدبر کے ساتھ اقدامات کر رہی ہے ،پی ٹی آئی نے آغاز ہی خونی مارچ سے کیا ، کونی مارچ کے نام پر کیوں سہولیات دی جائیں ؟، عمران خان سے کسی اچھے کی توقع نہیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا کہ سب فیصلے متفقہ طورپر ہوئے ہیں۔ دوسری جانب پنجاب حکومت نے صوبے میں فوری طو رپر دفعہ 144کانفاذ کا کر دیا۔جبکہ اتحادی حکومت کے رہنمائوں نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے جس خونی مارچ کے آغازکا عندیہ دیا گیا تھا اس کا پہلا شاخسانہ ماڈل ٹائون میں پوری قوم نے دیکھا، انتشار ، امن و امان خراب کرنا ،گلی محلوں میں لڑائی کرانا عمران خان کی عادت اور روایت ہے جو عرصہ دراز سے بر قرار ہے،عمران خان کی بہادری کا یہ عالم ہے ان کے بنی گالہ،میانوالی اورزمان پارک میں گھر ہیں لیکن وہ یہاں سے لانگ مارچ کی قیادت کرنے کی بجائے اس جگہ کا انتخاب کیا گیا جہاں ان کی حکومت ہے اور اس کے حصار میں لانگ مارچ کریں گے ،صوبے کی عوام کے جان کے تحفظ اور سرکاری املاک کی حفاظت کے لئے منصوبہ بندی کر لی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار مسلم لیگ (ن) کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری عطا اللہ تارڑ نے حسن مرتضیٰ،اویس لغاری، شازیہ عابد اور دیگر کے ہمراہ 90شاہراہ قائد اعظم پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں