حکومت کا پنجاب میں 350 مقامات پر موبائل سروس بند کرنے کا فیصلہ

لاہور(نیوز ڈیسک )پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو روکنے کے لیے حکومت بھرپور تیاریاں کر رہی ہے۔اسی سلسلے میں حکومت نے پنجاب میں 350 مقامات پر موبائل سروس بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور میں 20 مقامات پر موبائل سروس بند کی جائے گی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس حوالے سے حمزہ شہباز کو بریفنگ دی۔وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے ان مقامات پر موبائل فون سروس بند رکھنے کی منظوری دے دی۔علاوہ ازیں لاہورہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ میں ممکنہ تشدد اور گرفتاریوں کے

خلاف درخواست پر چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کر لی ۔ لاہور ہائیکورٹ میں تحرک انصاف لانگ مارچ کے شرکاء پر ممکنہ تشدد اور گرفتاریوں کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔عدالت نے چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب سے آج بدھ کے روز رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کو آج ہی دوبارہ سماعت کیلئے مقرر کرنے کی استدعا مسترد کردی۔ جسٹس چودھری عبدالعزیز نے انصاف لائرز فورم کے رہنما یوسف رشید وائیں کی درخواست پر سماعت کی۔تحریک انصاف کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ پیر کے روز درخواست دائر کی تھی، رات سے لانگ مارچ روکنے کیلئے کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔جسٹس چودھری عبدالعزیزنے وکیل سے استفسارکیا کہ آپ چاہتے کیا ہیں پی ٹی آئی کی حکومت میں بھی ایسا ہی ہوتا رہا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دئیے کہ جب کسی کی حکومت آتی ہے تو دوسروں کیخلاف ایسی کارروائیاں شروع کردی جاتی ہیں۔ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ جتنی رکاوٹیں ہیں ان کو ہٹانے کا حکم دیا جائے۔ غیر قانونی مقدمات درج نہ کیے جائیں جوغیرقانی چھاپے مارے جا رہے ہیں انہیں روکنے کا حکم دیا جائے۔پی ٹی آئی کے وکیل نے موقف اپنایاپولیس دیواریں پھلانگ کر نوجوانوں، بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کو پکڑ کر ہراساں کررہی ہے۔

جسٹس چودھری عبدالعزیز نے کہا کیا ہم حکم دیدیں کہ قانون کے مطابق مقدمات درج کیے جائیں ۔ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ اگر کسی نے کوئی جرم کیا ہے تو کوئی بات نہیں۔عدالت نے کہا کہ لا ء آفیسر صاحب آپ چیف سیکرٹری اور آئی جی سے آج بدھ کے لئے رپورٹ منگوا لیں۔پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ بدھ کے روز لانگ مارچ ہے کیس کو آج ہی سماعت کیلئے دوبارہ مقررکر دیں جس پرعدالت نے کہا کہ رپورٹ آئے گی تو دیکھ لیں گے۔جسٹس چوہدری عبدالعزیز نے کیس کی سماعت آج تک ملتوی کر دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں