عمران خان کا امریکی معاون وزیر خارجہ ڈونلڈ لو کو برطرف کرنے کا مطالبہ

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)عمران خان نے امریکی معاون وزیر خارجہ ڈونلڈ لو کو برطرف کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم عمران خان نے بین الاقوامی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے انٹرویو میں امریکی عہدیدار ڈونلڈ لو کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔چئیرمین تحریک انصاف نے کہا کہ پاکستان کےاندورنی معاملات میں بھرپور مداخلت کی گئی، 22 کروڑعوام کے منتخب وزیراعظم کوہٹانے کی دھمکی دی گئی، ڈونلڈ لو کی دھمکی سے پہلے امریکی سفارتخانہ ہمارے پارٹی ممبران کو بلاتا رہا۔امریکی عہدیدار نے کہا عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو معاف کر دیا جائے گا،

اگلے ہی دن پارلیمنٹ میں میرے خلاف تحریک عدم اعتماد آگئی، پاکستان کو دھمکی دینے والے ڈونلڈ لو کو برطرف کرنا چاہیے۔عمران خان نے کہا کہ امریکا نے ایران ، جنوبی امریکی ممالک میں رجیم کرائی ، امریکا ماضی میں کئی ممالک میں رجیم چینج میں ملوث رہا۔رجیم چینج سے عوام بہت غصے میں ہے۔عمران خان نے سائفر سے متعلق بتایا کہ امریکی عہدیدار نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو معاف کردیا جائے گا،اگلے ہی دن میرے خلاف پارلیمنٹ میں تحریک عدم اعتماد آگئی، سائفر میں 22کروڑ عوام کے منتخب وزیراعظم کو ہٹانے کی دھمکی دی گئی، سائفر کو کابینہ میں پڑھ کر سنایا گیا، پھر قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں لے جایا گیا، جہاں پر سروسز چیفس بھی موجود تھے، قومی سلامتی کمیٹی نے اس کو مداخلت قرار دیا اور احتجاج کا فیصلہ کیا۔اسی طرح سائفر چیف جسٹس آف سپریم کورٹ کو بھی بھیجا گیا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ بہترین تعلقات چل رہے تھے، بائیڈن انتظامیہ آئی تو سرد مہری کا رویہ رکھا گیا، بائیڈن کے آفس میں آتے ہی افغانستان کا معاملہ ہوگیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے 22کروڑ عوام نے مجھے منتخب کیا، میری پہلی ذمہ داری پاکستان کے عوام ہیں، 15ملین لوگ غربت کی لکیر سے نیچے ہیں، روس ہمیں 30فیصد سستی گندم اور تیل دے رہا تھا،میرے دورہ روس کو اینٹی امریکا تاثر دیا گیا، انڈیا امریکا کا اسٹرٹیجک اتحادی ہے لیکن وہ امریکا کا اتحادی ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے ایک سوال پر جواب دیا کہ ڈونلڈ لو اور پاکستانی سفیر کی ملاقات سے پہلے امریکن

ایمبیسی میں میری جماعت کے بعض ارکان کوسے ملاقاتیں ہوئیں، وہ ملاقاتیں کیوں کررہے تھے؟ انہوں نے موجودہ حکومت کی 60 فیصد کابینہ ضمانتوں پر ہے، کسی کو معلوم نہیں تھا کہ روس جاؤں گا تو یوکرین پر حملہ ہوجائے گا،روس سے ہمیں فوجی سازوسامان خریدنا تھا،ہماری فوج کو اسپیئرپارٹس چاہیے تھی اور تیل پائپ لائن پر بات کرنا تھی، دورہ روس سے متعلق ہماری قیادت آن بورڈ تھی۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ آئندہ حکومت سے متعلق کوئی پیشگوئی نہیں کرسکتا، لیکن ہم اگلے الیکشن میں حصہ لیں گے ہماری جماعت ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے، الیکشن میں سب سے بڑی جماعت بن کر آئیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں