اس وقت ملکی معیشت بہت تیز چل رہی ہے، آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ معیشت کی رفتار کو آہستہ کیا جائے،مفتاح اسماعیل

لاہور(نیوز ڈیسک)وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ اس وقت ملکی معیشت بہت تیز چل رہی ہے، آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ معیشت کی رفتار کو آہستہ کیا جائے۔ تفصیلات کے مطابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی جانب سے ملکی معیشت کی ترقی کی رفتار اور آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے حوالے سے اہم بیان دیا گیا۔ اے آر وائی نیوز سے وابستہ صحافی ارشد شریف کے پروگرام میں بتایا گیا کہ وزیر خزانہ نے تحریک انصاف کی سابقہ حکومت کے آخری سال میں ملکی معیشت کی ترقی کی رفتار 6 فیصد ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملکی معیشت بہت تیز چل رہی ہے،

آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ معیشت کی رفتار کو آہستہ کیا جائے۔اس حوالے سے پیر کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ سابقہ حکومت نے آئی ایم ایف سے یہ وعدہ کیا تھا کہ نہ صرف ایندھن پر سبسڈی ختم کریں گے بلکہ اس پر فی لیٹر 30 روپے ٹیکس عائد کریں گے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان اور شوکت ترین کے فارمولے سے مجھے 70 روپے سبسڈی ختم کرکے 250 روپے فی لیٹر ملنے والے پیٹرول پر 17 فیصد ٹیکس عائد کرتے ہوئے اس کی قیمت میں 150 روپے اضافہ کرنا پڑے گا۔انہوںنے کہاکہ عمران خان اور شوکت ترین آئی ایم ایف سے جو معاہدہ کر کے آئے ہیں اس کے نتیجے میں آج ہم یہ چیزیں بھگت رہے ہیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ میرے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ اس وقت یہ قوم قیمتوں میں اضافے کے متحمل نہیں ہوسکتے، اس لیے میں آئی ایم ایف کے پاس جاؤں گا اور کہوں گا کہ میں مانتا ہوں کہ سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ قیمتیں بڑھائیں گے لیکن ہمیں اس کے لیے کچھ وقفہ دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک سے ڈیڑھ مہینے سبسڈی کو کھینچا ہے اور شوکت ترین صاحب جب یہ کہتے ہیں کہ وہ سبسڈی کی فنڈنگ چھوڑ کر گئے تھے تو مجھے ہنسی آتی ہے، شوکت ترین اس عمر میں ایسی باتیں کرتے ہیں جیسے عمران خان کے نوجوان سپورٹرز بات کرتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ میں آپ کو یقین سے بتارہا ہوں کہ میں نے وزیر خزانہ بننے سے ایک دو روز قبل فنانس سیکریٹری سے ملاقات کی تھی، انہوں نے جو دستاویزات مجھے

دکھائیں اس کے مطابق رواں سال کیلئے ایک ہزار 300 ارب روپے کا ابتدائی خسارہ مختص کیا گیا جس میں 56 ارب روپے وفاقی حکومت کا خسارہ تھا۔انہوں نے کہا کہ شوکت ترین کہتے ہیں کہ پیسے چھوڑ گئے تھے یہ جھوٹ ہے، آپ نے جو معاہدہ کیا تھا آپ معاہدے کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ یہ جو 5.97 یا 6.0 فیصد نمو کی شرح دکھائی گئی ہے اس پر آئی ایم ایف کہہ رہا ہے کہ آپ کی معیشت بہت تیز چل رہی ہے اس لیے آپ کو کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہورہا ہے، اس سے بچنے کے لیے معیشت کو آہستہ کریں، اور ان کا فارمولا ہے کہ معیشت آہستہ کرنے کے لیے

شرح سود بڑھائیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ ممکن ہے کہ شوکت ترین کا شوق پورا کرنے کے لیے شرح سود بھی بڑھائی جائے، یہ کام اسٹیٹ بینک کرے گا یہ ہر جگہ بارودی سرنگ کھود کر گئے ہیں، یہ لوگ 20 ہزار ارب روپے کا قرض لے کر گئے ہیں۔شوکت ترین پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا خسارہ چھوڑ کر گئے ہیں رواں سال پورے پاکستان کا خسارہ 5 ہزار ارب روپے اور وفاق کا خسارہ 5 ہزار 600 ارب روپے ہوگا، یہ بھی پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا خسارہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں