پناہ کے زیر انتظام میٹھے مشروبات کے صحت اورمعیشت پرنقصانات سے متعلق نیشنل ڈائیلاگ کا اہتمام

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پناہ) کے زیر انتظام قبل از بجٹ ”میٹھے مشروبات صحت اور معیشت پرنقصانات”کے موضوع پراہم نیشنل ڈائیلاگ کااہتمام کیاگیا، اس کی صدارت صدرپناہ میجرجنرل (ر) مسعود الرحمن کیانی نے کی، میزبانی کے فرائض جنرل سیکرٹری ثناء اللہ گھمن نے انجام دیے۔ڈاکٹر آصف محمود جاہ وفاقی ٹیکس محتسب نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی،جب کہ اس موقع پران کے ہمراہ ایڈوائزر وفاقی ٹیکس محتسب ثروت حبیب، گلوبل ہیلتھ ایڈووکیسی انکیوبیٹر کے کنسلٹنٹ منور حسین، ڈاکٹربصیر اچکزئی ڈائریکٹر نیوٹریشن وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز، ڈاکٹر خواجہ مسعود احمد، نیشنل کوآرڈینیٹر نیوٹریشن اینڈ این ایف اے وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن اور ٹیکس پالیسی، صحت اور میڈیا کے دیگر ماہرین بھی موجود تھے۔

ڈاکٹر آصف محمود جاہ وفاقی ٹیکس محتسب نے کہاکہ پناہ کاکام قابل تحسین ہے،میٹھے مشروبات زہر قاتل ہیں،جن کی روک تھام ضروری ہے،پناہ کے مقصدمیں ہم ان کے ساتھ ہیں،طب نبوی ﷺکواپنائیں،سادہ زندگی اپنائیں،میٹھے مشروبات کی جگہ پانی پیں،صاف اورمیٹھاپانی صحت کیلئے بہترین ہے،بلوچستان میں آج بھی لوگ گدلہ پانی پیتے ہیں،ہم نے تھرپارکرمیں 1200کنوئیں لگائے ہیں،پناہ بھی خیرکاکام کررہی ہے،پناہ کی وجہ سے لوگوں میں شعور آرہاہے،ہم مکمل طورپرمیٹھے مشروبات پرٹیکس بڑھانے پراتفاق کرتے ہیں،اس سے متعلق تجاویز ہم نے ایف بی آر کوبھجوادی ہیں۔وفاقی محتسب پناہ کے ساتھ ہے،مل کرساتھ چلیں گے۔قبل ازیں پناہ کے صدر میجرجنرل (ر) مسعود الرحمن کیانی نے مہمانوں کی آمد کاشکریہ اداکیااور کہا کہ میٹھے مشروبات ملک کی صحت اور معیشت کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔ حکومت اس وقت پیٹرولیم کی قیمتوں سے نمٹنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے اور پیٹرولیم کی قیمتوں کو کم رکھنے کے طریقے آزما رہی ہے۔پناہ جنرل سیکریٹری ثناء اللہ گھمن نے کہاکہ شکر والے مشروبات پر ٹیکس بڑھانے سے حکومت کو دوہرا فائدہ ہو سکتا ہے۔ اس سے بیماریوں کے اخراجات میں کمی آئے گی اور آمدنی پیدا کرنے میں بھی مدد ملے گی جو پٹرولیم لیوی کا متبادل ہو سکتا ہے۔گلوبل ہیلتھ ایڈووکیسی انکیوبیٹرز کے کنسلٹنٹ منور حسین نے کہا کہ شکر والے مشروبات پر ٹیکس بڑھانے کی حمایت کرنے کے لیے کافی عالمی اور مقامی شواہد موجود ہیں،عالمی بینک کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق میٹھے مشروبات پر ٹیکس بڑھانے سے اس کی کھپت کے ساتھ، موٹاپا، ذیابیطس، امراض قلب اور دیگر دائمی امراض میں کمی آئے گی، مطالعہ اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ ٹیکس جتنا بڑا ہوگا، صحت کو اتنا ہی بڑا فائدہ ہوگا۔مطالعہ سے اہم نتائج اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ زیادہ ٹیکس لگانے کے بعد پہلے 10 سالوں میں اوسط ٹیکس ریونیو پاکستان میں میٹھے مشروبات ٹیکس کے ذریعے جمع ہونے والے موجودہ ریونیو سے نمایاں طور پر زیادہ ہوگا،میٹھے مشروبات پر ٹیکس بڑھانے سے ریونیو میں اضافہ اور لوگوں کوصحت مند رکھنے کے لیے فائدہ مندثابت ہوگا، وزارت خزانہ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو چاہیے کہ وہ تمام قسم کے شکر والے مشروبات بشمول سوڈاس، جوسز، انرجی ڈرنکس، آئسڈ ٹی، ذائقہ دار دودھ اور دیگر مشروبات پر زیادہ ٹیکس عائد کریں، جو آئندہ قومی بجٹ10جون 2022 میں پیش کیا جائے گا۔

ڈاکٹربصیر اچکزئی ڈائریکٹر نیوٹریشن نے کہاکہ یہ پاکستان میں صحت عامہ کی ایمرجنسی ہے جہاں خطرناک حد تک زیادہ تعداد میں لوگ ذیابیطس اور دیگر این سی ڈیز کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، میٹھے مشروبات ایک ضروری غذائی شے نہیں ہیں،ڈاکٹر خواجہ مسعود احمد، نیشنل کوآرڈینیٹر نیوٹریشن اینڈ این ایف اے وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن نے کہا کہ قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے والے آئندہ بجٹ 2022-23 میں تمام قسم کے شکر والے مشروبات پر ٹیکس کو کم از کم 20 فیصد تک بڑھاناچاہیے۔ڈائیبیٹک ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر عبدالباسط نے مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد 2019 میں 19.4 ملین سے بڑھ کر 2021 میں 33 ملین ہو گئی ہے۔اس کے ہماری معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور کوئی بھی ملک اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا علاج نہیں کر سکتا،حکومت کو پاکستان میں ذیابیطس کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے چاہییں۔ ہم تمام قسم کے میٹھے مشروبات پر ٹیکس بڑھانے کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں