عمران خان اگر ملک میں خانہ جنگی چاہتا ہے تو قوم اسے نہیں چھوڑےگی، وزیراعظم

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) عمران خان اگر ملک میں خانہ جنگی چاہتا ہے تو قوم اسے نہیں چھوڑےگی، جو الفاظ انہوں نے استعمال کیے اس سے پوری قوم کے سر شرم سے جھک گئے، تمہارا گریبان ہوگا اور اس قوم کا ہاتھ ہوگا ، وزیراعظم شہباز شریف کا بیان۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہےکہ عمران خان اگر خدانخواستہ ملک میں خانہ جنگی کرانا چاہتا ہے تو یہ اس کی بھول ہے، قوم یہ سازش ناکام بنادے گی۔لاہور میں پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ (پی کے ایل آئی) کے دورے کے موقع پر میڈیا سےگفتگو کر تے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عمران خان

اگر ملک میں خانہ جنگی کروانا چاہتا ہیں تو یہ اس کی بھول ہے، قوم اسے نہیں چھوڑے گی، یہ قوم عمران نیازی کو معاف نہیں کرے گی، تمہارا گریبان ہوگا اور اس قوم کا ہاتھ ہوگا ۔وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عمران نیازی نے اس قوم کو اخلاقی طور پر تباہ کردیا ہے، جو الفاظ انہوں نے استعمال کیے اس سے پوری قوم کے سر شرم سے جھک گئے، عمران خان نے اخلاقیات اور سماج کو تباہ کر دیا ہے، عمران نیازی دن رات نیب پر سوار رہتا تھا، میں کوٹ لکھپت جیل آیا تو کہا گیاشہباز شریف کو زمین پر سلاؤ، مجھے بکتر بند گاڑی میں بٹھایا تاکہ ہچکولے لگیں اور کمر میں درد ہو، میں نے 2018 میں کہاتھا کہ چارٹرآف اکانومی کریں، لیکن اسے حقارت سےٹھکرادیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ پی کے ایل آئی پر 20 ارب روپے لگے تھے، پی کے ایل آئی میں ایک دھیلےکی کرپشن نہیں نکال سکے، عمران نیازی کو مخالفین کو دیوار سے لگانے سے فرصت نہیں تھی، عمران نیازی کے پاس اسپتال، سڑکوں اور خوشحالی کے لیے فرصت نہیں تھی، کئی لاکھ لوگ بے روزگار ہوگئے، ایک نوکری نہیں ملی، عمران نیازی کے پاس سوائے گالم گلوچ کے فرصت نہیں تھی، نئے پاکستان کی بات کرنے والے نے عوام کو ایک سبسڈی نہیں دی، سیکڑوں مریض اللہ کو پیارے ہوگئے، جن کا علاج ہوسکتا تھا، عمران نیازی پتھر دل ہیں۔پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ کے حوالے سے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عمران خان کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے اسپتال کے3 سال ضائع ہوئے،ماضی میں اسپتال کو بے پناہ نقصان پہنچایا گیا، بورڈ آف گورنرز کے

چیئرمین ڈاکٹر سعید کو بحال کر دیا گیا ہے، منصب سنبھالتے ہی ڈاکٹرسعید اختر سے رابطہ کیا اور وہ امریکاسے واپس آئے،پی کے ایل آئی میں 50 فیصد مریضوں کا مفت علاج ہوگا،جن کے پاس روٹی کھانے کو پیسے نہیں، وہ علاج کہاں سے کرائیں گے، صاحب حیثیت کے علاج سے ہونے والی آمدن غریب مریضوں پر خرچ ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں