وفاقی وزیرداخلہ رانا ثناءاللہ نے شیریں مزاری کی اسلام آباد سے گرفتاری کو غلط قرار دیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی وزیرداخلہ رانا ثناءاللہ کا کہنا ہے کہ مریم نواز کی طرح شیریں مزاری کی گرفتاری بھی غلط ہوئی۔انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان نے افراتفری پیدا کرنے کی کوشش کی تو آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ شیریں مزاری کی گزشتہ روز کی اسلام آباد سے گرفتاری کو غلط قرار دیا۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ شیریں مزاری کی گرفتاری غلط ہوئی ،مریم نواز کی گرفتاری کا طریقہ کار بھی غلط تھا۔ واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری کو گرفتار کرنے کے بعد گزشتہ رات رہا کردیا گیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ آئی ایچ سی نے ہفتہ کی رات سابق وفاقی وزیر اور پی ٹی آئی کی سینئر رہنما شیریں مزاری کی گرفتاری کی عدالتی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے پولیس سے کہا کہ انہیں فوری طور پر حراست سے رہا کیا جائے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے وفاق کو معاملے پر عدالتی کمیشن تشکیل دے کر ٹی او آرز عدالت میں جمع کرانے کا حکم دیا۔ چیف جسٹس نے شیریں مزاری کی صاحبزادی ایمان زینب مزاری ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہدایت پر سابق وزیر کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ سلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ گرفتاری بظاہر "غیر قانونی” تھی، مزاری کی فوری رہائی کا حکم دیا اور حکام سے کہا کہ وہ سابق وزیر کا فون انہیں واپس کریں۔جسٹس من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ شیریں مزاری کی گرفتاری عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی کو بتانے سے پہلے کسی رکن پارلیمنٹ کو گرفتار نہ کیا جائے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے کسی رکن قومی اسمبلی (ایم این اے) کو ابھی تک ڈی نوٹیفائی نہیں کیا گیا۔عدالت نے انسپکٹر جنرل آف پولیس آئی جی پی اسلام آباد کو شیریں مزاری کے موبائل فون اور دیگر سامان کی واپسی کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد بیرسٹر جہانگیر خان جدون نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی حکومت کو اس معاملے کا علم نہیں تھا۔جس کے جواب میں چیف جسٹس نے کہا کہ کسی صوبے کی پولیس کیسے دارالحکومت میں آکر لوگوں کو گرفتار کرسکتی ہے۔جہانگیر جدون نے سلام آباد ہائی کورٹ کو بتایا کہ پنجاب کے اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ نے دارالحکومت کی پولیس کے ساتھ مل کر مزاری کو گرفتار کیا تھا۔ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اگر مزاری کی گرفتاری میں ضروری قانونی تقاضے پورے نہ کیے گئے تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔انسپکٹر جنرل اسلام آباد محمد احسن یونس نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نےآج ہی اپنا عہدہ سنبھالا ہے۔ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ حکومت محترمہ مزاری کی گرفتاری کی انکوائری کرائے گی اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔ عدالت نے مذکورہ بالا ہدایات کے ساتھ کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں