اسرائیل کو تسلیم کرنے کی مہم میں عمران خان ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تھا،فضل الرحمن

پشاور(نیوز ڈیسک) جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی مہم میں عمران خان ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تھا، پشاور میں تقدس حرم نبوی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے جبرا اسرائیل کو تسلیم کروانے کے لیے کئی عرب ممالک کو آمادہ کیا،اس مہم میں عمران خان نے ٹرمپ کا ساتھ دیا،کراچی کی کانفرنس نے ان کی زبان بندی کی جس کے بعد آج تک اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات نہیں کرتے۔مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا ہے کہ مسجد نبوی میں بے حرمتی کے واقعے کے وقت پی ٹی آئی کے انیل مسرت اور

صاحبزادہ جہانگیر کس نیت سے وہاں موجود تھے، برطانیہ میں پی ٹی آئی کا صدر ہنگامہ کروانے کیلئے مدینہ منورہ آیا تھا۔انہوں نے کہا کہ پہلے اپنی شکل دیکھو پھر ریاست مدینہ کی بات کرو،مجھے گالی دیتے رہتے ہو برداشت کرتا ہوں،ناموس رسالتﷺ پر برداشت اور تحمل کی حدیں ختم ہو جاتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جمیعت علماء اسلام والے تمہیں پاکستان سے نکالیں گے،مانتا ہوں کہ واقعہ سعودی عرب میں ہوا ہوا لیکن دل آزاری پاکستان اور پوری دنیا کی ہوئی۔دل آزاری کرنے والا پاکستانی تھا، پاکستانی کی حیثیت سے میری دل آزاری ہوئی میں فریاد کہاں لے کر جاؤ۔اس سے قبل کارکنون سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ ملک میں ایک مخصوص لابی اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حق میں تھی، آپ کی آواز پر پاکستان میں کوئی اسرائیل کو تسلیم کرنے کی اجرت نہ کرسکا، ہماری کاوشوں نے اس لابی کو اسرائیل کو تسلیم کرنے کے مؤقف سے پیھچے ہٹنے پر مجبور کردیا، پاکستان میں یہودیوں کے ایجنٹوں کو کراچی کے سمندر میں دفن کردیں گے۔پی ڈی ایم سربراہ نے کہا کہ اسی لابی کے حامیوں نے مسجد نبوی ﷺ کی بے حرمتی کرائی، ناموس رسالت ﷺ پر جانیں قربان کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ عمران خان کی وجہ سے پاکستان کی سیاست بدنام ہوگئی، کارکردگی کے لحاظ سے نااہل ثابت ہوئے اور دماغی طور پر بیمار ظاہر ہوئے۔انہوں نے کہا ہے کہ عمران خان اچھا ہوا تم اقتدار میں آئے سب کے سامنے بے نقاب ہوئے، ہمیں ان کے جلسوں سے نہیں ڈرنا چاہیے، میری شرافت مجھے اس پر تبصرہ کرنے کی اجازت نہیں دیتی، پاکستان کی سلامتی کمیٹی نے کہا کہ مراسلہ جھوٹ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں