دعا کریں عمران خان کی گرفتاری کی اجازت مل جائے،راناثناء اللہ

لاہور(نیوز ڈیسک) وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ میرے دل کی مرضی ہے کہ عمران خان کو گرفتار کیا جائے، عمران خان کو اسی سیل میں رکھا جائے جہاں مجھے رکھا گیا تھا، اس کی ساری سیاست 3 دنوں میں نکل جائے گی، مگریہ کام اتحادی جماعتوں کی منظوری کے بغیر نہیں کرسکتے۔انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان جس قسم کی گندی زبان بول رہا ہے، گھٹیا سیاست کررہا ہے، جس طرح قوم کو تقسیم کررہا ہے، جس طرح نوجوانوں کو گمراہ کررہا ہے ، خواتین اور ہر طبقے ، ہرادارے کی توہین کررہا ہے ، ایس صورتحال میں اگرمیرے دل مرضی پوچھیں تومیرے دل کی

مرضی ہے کہ عمران خان کو گرفتار کیا جائے، عمران خان کو اسی سیل میں رکھا جائے جس میں مجھے رکھا گیا، ان کی ساری سیاست 3 دنوں میں نکل جائے گی، مگر اتحادی حکومت ہے اس لیے اس طرح کے فیصلے اتحادیوں جماعتوں کے سربراہان کی منظوری کے بغیر نہیں کرسکتے، دعا کریں اتحادیوں کی جانب سے عمران خان کو گرفتار کرنے کی اجازت مل جائے پھر عوام کو یہ خوشی بھی مل جائے گی۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کابینہ اجلاس میں کیا جائے گا۔اس سے قبل انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غریب آدمی کے منہ سے نوالہ چھیننا مسلم لیگ (ن)کی حکومت کو گوارہ نہیں، اتحادیوں کے ساتھ مشاورت میں پارٹی قائد نواز شریف ویڈیو لنک کے ذریعے شامل تھے، لوگوں کے مسائل حل کرنے سے روکا گیا تو جو ذمہ دار ہیں انہیں بھگتنا پڑے گا۔ہمیں کام کرنے کے لئے فری ہینڈ دیا جائے،ہر طرف سے سپورٹ ہو قوم کو یقین ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور وزیر اعظم شہباز شریف ملک کو موجودہ بحرانوں سے باہر نکال سکتے ہیں۔ لیکن اگر مختلف طریقوں سے ہمیں کمزور کیا جائے، ہماری کارکردگی کو روکا گیا اور شک و شبہ کا اظہار کیا گیا تو ہو سکتا ہے ہم اتحادیوں کو لے کر عوام کے پاس جائیں۔ ہمارے خلاف چار سال تک ظلم اور زیادتی کا سلسلہ چلتا رہا، ان معاملات پر بھی از خود نوٹس لیا جانا چاہیے، ہم عدالت عظمی اور چیف جسٹس پاکستان سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ جاری نہیں رہتا تو معیشت متاثر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہرگزخوف زدہ نہیں،

یہ لانگ مارچ لے کر آئیں ان کا استقبال کریں گے۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عمران خان نے مریم نواز سے متعلق نازبیا زبان استعمال کی، انہوں نے گھٹیا پن کا مظاہرہ کیا، ہمارا مشرقی معاشرہ ہے، صدیوں پر محیط روایات ہیں، ہماری خواتین اپنے خاندان کی عزت کی خاطر صبر کے ساتھ زندگی گزارتی ہیں، مجھے لگتا ہے عمران خان کا اپنا تجربہ کچھ خراب ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں