پچیس لوگوں کے ڈی سیٹ ہونے سے پنجاب حکومت کو فرق نہیں پڑے گا ، مریم اورنگزیب

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ 25 لوگوں کے ڈی سیٹ ہونے سے پنجاب حکومت کو فرق نہیں پڑے گا ، 25 ارکان کو پارٹی کی طرف سے کوئی ہدایات نہیں ملی تھیں ، ارکان اسمبلی کو فیصلہ چیلنج کرنے کا حق حاصل ہے ۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب میں مخالفین کی تعداد 172 اور ہماری 177 ہے ، منحرف ارکان نے پی ٹی ائی کی پالیسیوں پر عدم اعتماد کرتے ہوئے انحراف کیا اور ارکان نے پاکستان کے عوام کے لیے ووٹ دیا ،

پی ٹی آئی ارکان نے ملک میں معیشت کی تباہی کے خلاف ووٹ دیا ۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ چار سال دونوں ہاتھوں سے ملک کو لوٹا ، بزدار اصل میں وزیر اعلیٰ تھے ہی نہیں ، اصل وزیر اعلیٰ فرح گوگی تھی ، فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ آٹھ سال سے نہیں آیا اور منحرف ارکان کا فیصلہ ایک ماہ میں آگیا ، جس طرح یہ فیصلہ ایک ماہ میں آیا، فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ ایک دن میں ہونا چاہئے ، ایک ہفتے پہلے تک عمران خان الیکشن کمیشن پر حملہ آور تھے ، آج اپنے گریبان میں جھانکنے کا وقت ہے عمران صاحب ، جس اسمبلی میں بھی عدم اعتماد ہوگا آپ وہاں سے باہر پھینکے جائیں گے ۔خیال رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے انتخاب میں حمزہ شہباز کو ووٹ دینے والے پی ٹی آئی کے 25 منحرف اراکین صوبائی اسمبلی کے خلاف ریفرنس منظور کرتے ہوئے انہیں ڈی سیٹ کردیا ہے ، الیکشن کمیشن کی جانب سے پنجاب اسمبلی کے 25 اراکین کو ڈی سیٹ کیے جانے کے بعد حمزہ شہباز بطور وزیر اعلیٰ پنجاب اکثریت کھو بیٹھے جب کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری کی طرف سے بھیجے گئے ریفرنس پر الیکشن کمیشن کے فیصلے کے تحت پنجاب اسمبلی کی رکنیت سے فارغ ہونے والوں میں جہانگیر ترین گروپ کے 18 ، علیم خان گروپ کے 5 اور اسد کھوکھر گروپ کے 2 اراکین شامل ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں