ڈالر 17 روپے مہنگا ،ملکی قرضوں کے حجم میں مزید 1700 ارب روپے سے زائد کا اضافہ ہو گیا

لاہور(نیوز ڈیسک)6 ہفتے پاکستانی روپیہ کیلئے تباہ کن ثابت ہوئے ، 40 دنوں میں ڈالر 17 روپے مہنگا ہوا، ملکی قرضوں کے حجم میں مزید 1700 ارب روپے سے زائد کا اضافہ ہو گیا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کی کرنسی مارکیٹ میں رواں کاروباری ہفتے کے چوتھے روز بھی ڈالر کی قیمت بے لگام رہی۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق جمعرات کے روز انٹربینک میں ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ڈالر کی قیمت 200 روپے کی سطح کو چھو گئی۔امریکی کرنسی کی قیمت میں 1 روپے 61 پیسے کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ موجودہ حکومت کے قیام سے لے کر اب تک ڈالر کی

انٹربینک قیمت میں 17 روپے سے زائد کا اضافہ ہوچکا ہے۔ جبکہ دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت ہوشربا 204 روپے کی سطح کو بھی عبور کر گئی۔اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت مزید 2 روپے اضافے کے ساتھ 204 روپے ہوچکی ہے۔اس حوالے سے دنیا نیوز کی رپورٹ کے مطابق موجودہ حکومت میں ڈالر ہر روز اوسط 57 پیسے مہنگا ہوا، شہباز حکومت کے 40 روز میں ڈالر 17 روپے 7 پیسے مہنگا ہونے سے ملکی قرضوں کے حجم میں 1700 ارب روپے سے زائد کا اضافہ ہو چکا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے ڈالر کی قیمت میں اضافے کا نوٹس لیتے ہوئے معاشی صورت حال سے متعلق اہم اجلاس طلب کر لیا ، جس میں وزارت خزانہ ، ایف بی آر اور وزارت تجارت کے حکام شرکت کریں گے۔ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے اس اجلاس میں ڈالر کی قدر میں مسلسل اضافے کو روکنے سے متعلق امور پر مشاورت کیا جائے گی ، اس کے علاوہ شہباز شریف کو غیر ضروری اشیاء کی امپورٹ پر پابندی سے متعلق فیصلے پر عملدرآمد کی رپورٹ بھی پیش کی جائے گی جب کہ اجلاس میں وزیراعظم کو امپورٹ ایکسپورٹ سے متعلق صورتحال سے بھی آگاہ کیا جائے گا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں