مفتاح اسماعیل فیکٹری کے مالک ضرور ہیں لیکن معاشی ماہر نہیں،اسحاق ڈار

لاہور(نیوز ڈیسک)اسحاق ڈار نے اپنی ہی حکومت کے وزیر خزانہ کیخلاف آرٹیکل ٹوئٹ کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ کی ہے جس کے بعد انہیں اپنی ہی جماعت کے کارکنوں کی تنقید کا سامنا ہے۔سینئر لیگی رہنما نے قومی اخبار روزنامہ اوصاف میں شائع ہونے والا ایک آرٹیکل ٹوئٹ کیا جس میں مفتاح اسماعیل کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔اسحاق ڈار کی جانب سے ٹوئٹ کیے گئے آرٹیکل میں لکھا گیا کہ "معاشی بحران کے حل کیلئے جس نے بھی وزارت خزانہ کا قلمدان مفتاح اسماعیل کو دیا ہے

وہ یا تو اس ملک کی زبوں حالی سے واقف نہیں یا پھر جان بوجھ کر ملک کو معاشی بحران کی طرف دھیک دیا ہے۔مفتاح اسماعیل فیکٹری کے مالک ضرور ہیں لیکن معاشی ماہر نہیں، اس طرح کے وزیروں سے معیشت اور معاشرت پہلے سے بدتر اذیت میں مبتلا ہو جاتی ہے”۔بعد ازاں سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے دنیا نیوز کے پروگرام نقطہ نظر میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی حکومت کے جومعاشی حالات وزیراعظم شہبازشریف کو ملے ہیں وہ بڑے مایوس کن ہیں، جب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں20روپے اور بجلی کی قیمت پر5روپے سبسڈی دی گئی تو کہا گیا کہ وہ فنڈڈ ہے، اگر سبسڈی فنڈڈ ہوتو آئی ایم ایف کو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔لیکن یہ فنڈڈ نہیں ہے، یہ قوم سے غلط بیانی کی گئی، کنسٹرکشن کی ایمنسٹی اسکیم دی تھی اس کے پیسے فنڈ کرنے تھے، ایسے نہیں ہوتا۔پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے، پیٹرول 39روپے اور ڈیزل پر79روپے بڑھانے کا بڑا مسئلہ بنا ہوا، عمران خان نے 30جون تک تیل کی قیمتوں کو فکس کیا، جو کہ ساڑھے 300ارب کی رقم بن گئی ہے، یہ رقم فنڈڈ نہیں ہے، آئی ایم ایف کہتا ہے کہ عوام پر بوجھ ڈالیں، لیکن ن لیگ نہیں سمجھتی کہ عوام پر بوجھ ڈالا جائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کوایک حل دیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی صرف وفاقی حکومت کے علاقوں میں استعمال نہیں ہونی، عوام چینی، آٹا دالوں کی مہنگائی کی چکی میں پس چکی ہے ،اس کا بوجھ وفاق اور صوبوں کو اٹھانا چاہیے، تیل کی قیمتوں سبسڈی ساڑھے 300ارب سبسڈی کا بوجھ وفاق اور

صوبے مل کر اٹھائیں، وفاق کا حصہ 120 ارب کا بنتا ہے، پچھلی حکومت 5600ارب کا بجٹ خسارہ چھوڑ کرگئی ہے۔جانے والے وزیراعظم نے کہا ہم 30جون تک بوجھ نہیں ڈالیں گے ، اس لیے ہم بھی عوام پر بوجھ نہیں ڈال رہے لیکن اگر صوبہ خیبرپختونخواہ سبسڈی کا شیئر نہیں دیتا تو وہاں قیمت بڑھا دی جائے۔صوبوں کو یہ فارمولہ قابل قبول ہونا چاہیے، کوویڈ کے درمیان بھی تو تنخواہیں دی گئیں، بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ ڈالر بڑھتا ہے تو قرض بڑھ جاتا ہے، حکومت نے غیرضروری لگژری اشیاء پر پابندی لگا دی ہے جو کہ اچھا اقدام ہے۔ روپے کی قدر کا گرنا اچھی بات نہیں ہے، حکومت کو کام کرنے دیا جائے جس سے معاملات ہینڈل ہوسکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں