پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا یا نہیں، حکومت نے اہم ترین فیصلہ سنادیا

اسلام آباد (نیوز ڈسک) اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر55 ارب 48 کروڑ روپے کی سبسڈی دینے کی منظوری دے دی، یکم تا 15مئی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے پر سبسڈی دی جائےگی، سبسڈی کی رقم آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو دی جائے گی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا، اجلاس میں وفاقی وزراء، وزرائے مملکت، وفاقی سیکریٹریز اور اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں پیٹرولیم ڈویژن کی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنریز کے پرائس ڈیفریشیل کلیمز کی ادائیگی کی سمری پر غور کیا گیا۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر55 ارب 48 کروڑ روپے کی سبسڈی دینے کی منظوری دے دی ہے۔ سپلنٹری گرانٹ مئی 2022ء کے پہلے 15 دن کے لیے منظور کی گئی۔ سپلیمنٹری گرانٹ کے تحت یکم تا 15مئی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے پر سبسڈی دی جائےگی۔ اسی طرح ای سی سی میں دو لاکھ ٹن کھاد درآمد کرنے کی سمری بھی منظورکی ہے، کھاد حکومتی بنیادوں یا مؤخر ادائیگیوں پر درآمد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ مزید برآں وزیراعظم شہبازشریف سے آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان نے ملاقات کی۔ وزیراعظم شہبازشریف نے دونوں رہنماؤں سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں، ملاقات میں موجودہ سیاسی اور معاشی صورتحال سے متعلق غور کیا گیا۔ وزیراعظم نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق تجاویز مانگ لی ہیں۔ دوسری جانب ایم کیوایم پاکستان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی مخالفت کی ہے، رہنماء خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات قیمتوں سے متعلق حکومت امیر اور غریب میں تفریق رکھے، موٹرسائیکل اور گاڑیوں کی ٹینکی بھروانے والوں میں فرق کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں