کراچی میمن مسجد کے قریب دھماکہ، پولیس موبائل کو ٹارگٹ کیا گیا، دھماکہ پہلے سے پلانٹڈ تھا

کراچی(نیوز ڈیسک)وزیراطلاعات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ بظاہرلگتا ہے دھماکے میں پولیس موبائل کو ٹارگٹ کیا گیا ہے، لگتا ہے دھماکہ پہلے سے پلانٹڈ تھا، دھماکے میں ایک خاتوں جاں بحق اور11 افراد زخمی ہوئے، سکیورٹی ادارے جلد مجرموں تک پہنچ جائیں گے۔ انہوں نے کراچی بولٹن مارکیٹ کاغذی بازار کے قریب دھماکے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے اپنے ردعمل میں کہا کہ کچھ دنوں میں دوسرا دھماکہ ہواہے، لگتا یہ ہی ہے دھماکہ پہلے سے پلانٹڈ تھا، بظاہرلگتا ہے پولیس موبائل کو ٹارگٹ کیا گیا ہے، ملک دشمن قوتیں پاکستان میں صورت حال کو خراب کرنا چاہتی ہیں۔

سعید غنی نے کہا کہ جامعہ کراچی اور صدر دھماکے کی تحقیقات میں کافی پیشرفت ہوئی ہے، ان دونوں کیسز میں پولیس مجرموں تک پہنچ جائے گی، دہشتگردی کا چیلنج کسی ایک صوبے کو درپیش نہیں، اتنے بڑے شہر میں ہر شخص پر نظر رکھنا ناممکن ہوتا ہے۔ہمیں فوج، پولیس اور رینجرز کو اعتماد دینا چاہیے، انہوں نے کہا کہ کراچی بولٹن مارکیٹ کاغذی بازار کے قریب دھماکے میں خاتون جاں بحق،11افراد زخمی ہوئے ہیں۔تین افراد کو کچھ زیادہ زخم آئے ہیں۔ ڈی آئی جی ساؤتھ کا کہنا ہے کہ آج بھی گنجان علاقے میں پولیس موبائل پیٹرولنگ پر تھی، صورت حال چیلنجنگ ہے، ابھی تک بی ڈی ایس نے دھماکے کے حوالے سے کچھ بھی نہیں بتایا۔ مزید برآں وزیراعظم شہبازشریف نے کراچی بولٹن مارکیٹ کے قریب دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے دھماکے میں جاں بحق خاتون کے اہل خانہ اور زخمیوں سے اظہار ہمدردی کیا ہے۔ وزیراعظم شہبازشریف نے دھماکے میں ملوث عناصر کی جلد گرفتاری کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے وفاق کی جانب سے سندھ حکومت کو مکمل معاونت کی یقین دہانی کرائی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں