آئی ایم ایف کی شرائط پر پٹرولیم مصنوعات اور بجلی پر سبسڈی ختم کرنے کی تیاریاں

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) آئی ایم ایف نے شرائط پر پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی ختم کرنے کی تیاریاں کر لیں۔وزارت خزانہ رواں ہفتے کے دوران سبسڈی ختم کرنے کا پلان تیار کرے گی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بجلی کی فی یونٹ پر دی گئی سبسڈی بھی ختم کیے جانے کا امکان ہے۔آئی ایم ایف سے مذاکرات کے دوران سبسڈی ختم کرنے کا پلان پیش کیا جائے گا، پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات 18 مئی سے شروع ہوں گے۔آئی ایم ایف کے ساتھ قطر میں دس روز تک مذاکرات جاری رہیں گے۔پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات میں آئندہ بجٹ تجاویز زیر غور آئیں گے۔

حکومت اس وقت پٹرولیم مصنوعات پر 65 ارب روپے کی سبسڈی دے رہی ہے۔پٹرول پر21 ارب اور ڈیزل پر 44 ارب روپے سبسڈی دی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی مرحلہ وار ختم کیے جانے کا امکان ہے۔پٹرولیم مصنوعات اور بجلی پر سبسڈی ختم ہونے ہر مینگائی کی شرح بڑھنے کا امکان ہے۔دوسری جانب وزیراعظم شہبازشریف نے ملک میں چینی کی موجودہ قیمت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تین سال بعد ملک میں چینی کی قیمت میں کمی ہوئی ہے جو کہ عوام کے لیے ایک ریلیف ہے۔وزیراعظم آفس میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل سے جمعہ کو اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں کیا۔ملاقات میں سیکرٹری خزانہ بھی شریک تھے۔وزیراعظم نے ملک میں چینی کی موجودہ قیمت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تین سال بعد ملک میں چینی کی قیمت میں کمی ہوئی ہے جو کہ عوام کے لیے ایک ریلیف ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے گندم کی خریداری کے حوالے سے پاسکو کو کیش کریڈٹ کے حوالے سے سہولیات دینے کی ہدایت بھی جاری کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں