تین دوست ممالک کا پاکستان کو فوری طور پر بڑی مالی امداد دینے سے انکار

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) تین دوست ممالک نے پاکستان کو فوری طور پر بڑی مالی امداد دینے سے انکار کر دیا جس کے بعد پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے آپشن محدود رہ گئے۔اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق شہباز حکومت کی مشکلات بڑھ چکی ہیں، دوست ممالک نے پاکستان کو فوری طور پر بڑی مالی امداد دینے سے انکار کردیا۔دوست ممالک کے انکار کے بعد پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے آپشن محدود ہو گئے۔شہباز حکومت ایندھن پر دی جانے والی سبسڈی واپس لینے پر پہلے ہی رضامندی ظاہر کر چکی ہے اور پاکستان آئی ایم ایف سے اٹھارہ مئی کو دوحہ

میں بات چیت شروع کر سکتا ہے۔آئی ایم ایف سے مذاکرات سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کو فیول سبسڈی کے بارے میں فیصلہ کرنا ہو گا۔رپورٹ کے مطابق مذاکرات سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کو فیول سبسڈی کے بارے میں فیصلہ کرنا ہو گا۔وزیراعظم کی جانب سے وزارت خزانہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آئی ایم ایف سے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کی شرط کو جزوی طور پر نرم کرنے کو کہے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ سعودی عرب ، متحدہ عرب اور چین کے ساتھ قرض کو نئے سودوں کو حتمی شکل دینے سے تاخیر ہے کیونکہ تمام قرضوں کو آئی ایم ایف کے معاہدوں کے ساتھ منسلک کر دیا۔قبل ازیں بتایا گیا کہ آئی ایم ایف نے شرائط پر پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی ختم کرنے کی تیاریاں کر لیں۔وزارت خزانہ رواں ہفتے کے دوران سبسڈی ختم کرنے کا پلان تیار کرے گی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بجلی کی فی یونٹ پر دی گئی سبسڈی بھی ختم کیے جانے کا امکان ہے۔آئی ایم ایف سے مذاکرات کے دوران سبسڈی ختم کرنے کا پلان پیش کیا جائے گا، پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات 18 مئی سے شروع ہوں گے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ قطر میں دس روز تک مذاکرات جاری رہیں گے۔پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات میں آئندہ بجٹ تجاویز زیر غور آئیں گے۔حکومت اس وقت پٹرولیم مصنوعات پر 65 ارب روپے کی سبسڈی دے رہی ہے۔پٹرول پر21 ارب اور ڈیزل پر 44 ارب روپے سبسڈی دی جا رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں