اگر اداروں سے لڑائی ہوئی تو میں عمران خان کا ساتھ دوں گا،شیخ رشید

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ صلح کا حامی ہوں ‘ لڑائی جھگڑے کی حمایت نہیں کرتا اور اب بھی چاہتا ہوں کہ ہماری صلح ہونی چاہئے اور اس پر کوشش شروع کردی ہے تاہم اگر اداروں سے لڑائی ہوئی تو میں عمران خان کا ساتھ دوں گا ۔ تفصیلات کے مطابق امریکی نشریاتی ادارے ’وائس آف امریکہ‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ میں عمران خان کو اس جنگ میں حق بجانب سمجھتا ہوں اور اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تاہم تحریک انصاف کو اداروں کے خلاف نہیں کھڑا ہونا چاہئے اور اگر ایسا ہوا تو انہیں ٹھیک کریں گے،

ہمیں اداروں کے ساتھ مل کر الیکشن کی تاریخ طے کرنی چاہئے، میں اس میں ثالثی کا کردار ادا کروں گا، لیکن اگر عمران خان کی اداروں سے جنگ ہوجاتی ہے تو اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہئے کہ میں عمران خان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا رہوں گا تاہم پہلی کوشش ہوگی کہ صلح صفائی ہوجائے۔ایک سوال کے جواب میں سابق وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ فوج کے ساتھ تمام معاملات اچھے چل رہے تھے اور ہم سب ایک پیج پر تھے تاہم پھر ایک دم ہمیں نظر لگ گئی ، ہماری درمیان غلط فہمیاں پیدا ہوگئیں جو نہیں ہونی چاہئے تھیں، پاک فوج ایک عظیم فوج ہے جو جمہوریت کا فائدہ سوچتی ہے اور ہرمنتخب حکومت کے ساتھ ہوتی ہے لیکن کچھ نہ کچھ ایسا ہوا ہے کہ ایم کیوایم اور باپ نے ہمارا ساتھ چھوڑ دیا آدھی ق لیگ چلی گئی ، ہم سے کہیں تو غلطی ہوئی ہے۔شیخ رشید احمد نے کہا کہ ہمارا بس ایک ہی مطالبہ ہے کہ صاف اور شفاف انتخابات کی تاریخ دے دی جائے، ہم فوج کے ساتھ ہیں اور جب تک یہ حکومت ہے اپنی حکومت کرے ، ہم ایک ماہ سے اسی کوشش میں ہیں اور عوام کے جذبات بھی سب کے سامنے ہیں ، ورنہ اگلے ماہ تو بجٹ آجائے گا اور یہ معاملہ پھر لٹک جائے گا ، اب 31 مئی تک الیکشن کی تاریخ دے دینی چاہئے ، اگر عوام نے ساتھ دیا اور اسلام آباد آگئے تو پھر تو ہم الیکشن کی تاریخ لئے بغیر وہاں سے نہیں جائیں گے، ورنہ ہماری سیاست غرق ہوجائے گی، ہم آر یا پار ہوجائیں گے۔تحریک عدم اعتماد سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے ایم کیو ایم پر پورا یقین تھا، اس لئے کہتا تھا کہ

عدم اعتماد کامیاب نہیں ہوگی لیکن جس دن ایم کیو ایم پی ڈی ایم کے ساتھ جابیٹھی اس دن میں نے کہہ دیا تھا کہ ہم ہار گئے، کیوں کہ میں اس جماعت کو اس وقت سے جانتا ہوں جب اس کی بنیاد رکھی گئی، میں اور ایم کیو ایم کے بانی اپنی اپنی اسٹوڈینٹس جماعتوں کے رہنما تھے، انہوں نے کبھی غلطی نہیں کی اور بہت سوچ کر چلنے والی جماعت ہے لیکن اس بار یہ لوگ غلطی کرگئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں