امپورٹڈ حکومت کی نالائقی کی وجہ سے اس وقت پورے ملک میں بدترین لوڈشیڈنگ ہے، حماد اظہر

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سابق وفاقی وزیر حماد اظہر کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس رمضان المبارک میں ہم نے لوڈشیڈنگ نہیں ہونے دی تھی۔ تفصیلات کے مطابق سابق وفاقی وزیر برائے توانائی حماد اظہر کی جانب سے ملک میں جاری بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ رہنما تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس رمضان المبارک میں بجلی کی پیدواری صلاحیت کم ہونے کے باوجود ہم نے لوڈشیڈنگ نہیں ہونے دی تھی، امپورٹڈ حکومت کی نالائقی کی وجہ سے اس وقت پورے ملک میں بدترین لوڈشیڈنگ ہے۔موجودہ لوڈشیڈنگ کا بحران صرف اور صرف امپورٹڈ حکومت کی نالائقی کا نتیجہ ہے۔

ہمارے دور میں ایسی لوڈشیڈنگ کبھی نہیں ہوئی تھی۔ تمام فیول اور ہیداواری صلاحیت ملک میں موجود تھی اور اگر صحیح مینیج کیا جاتا تو ایک لمحے کی لوڈشیڈنگ کی بھی ضرورت نہیں تھی۔دوسری جانب وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پاور سیکٹر میں ترجیحی بنیادوں پر اصلاحات بالخصوص بند بجلی گھروں کو بھی جلد از جلد بحال کرنے کیلئے اقدامات کی ہدایت کی ہے، وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف سے وفاقی وزیرِ برائے پاور ڈویژن خرم دستگیر نے بدھ کو یہاں ملاقات کی جس میں وزیر اعظم کو پاور سیکٹر کی اصلاحات کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔وزیرِ اعظم کو ان کی ہدایت کے مطابق یکم مئی سے لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کیلئے اٹھائے جا رہے اقدامات پر پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔وزیرِ اعظم نے پاور سیکٹر میں ترجیحی بنیادوں پر اصلاحات بالخصوص بند رہ جانے والے بجلی گھروں کو بھی جلد از جلد بحال کرنے کیلئے اقدامات کی ہدایت جاری کی۔ جبکہ چیئرمین نیپرا نے یپرا میں فی یونٹ بجلی 3 روپے 15 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست کی سماعت کے دوران ملک بھر میں لوڈ شیڈنگ میں اضافے پر نیشنل پاور کنٹرول سینٹر کے حکام پر اظہارِ برہمی کیا ہے۔بدھ کو سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی ای) کی درخواست پر چیئرمین نیپرا کی زیرِ صدارت سماعت ہوئی۔نیپرا کی سماعت کے دوران بجلی کی لوڈشیڈنگ کا معاملہ بھی زیرِ غور آیا۔چیئرمین نیپرا نے استفسار کیا کہ کیا وجہ ہے کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ بڑھ گئی ہی نیشنل پاور کنٹرول سینٹر کے حکام نے

جواب دیا کہ گرمی زیادہ بڑھ گئی ہے۔نیپرا حکام نے استفسار کیا کہ پاور پلانٹس کیلئے فیول کا انتظام کیوں نہیں کیا گیا۔نیشنل پاور کنٹرول سینٹر (این پی سی سی) کے حکام نے جواب دیا کہ گرمی بڑھنے سے بجلی کی طلب میں اضافہ ہوا۔چیئرمین نیپرا نے کہا کہ یہ کوئی جواز نہیں، دنیا اتنی ترقی کر گئی ہے، 3 ماہ بعد کے موسم کی پیشگوئی بھی آج با آسانی مل جاتی ہے۔نیشنل پاور کنٹرول سینٹر کے حکام نے کہا کہ محکمہ موسمیات سے بھی پیش گوئی درست نہیں دی جاتی۔وائس چیئرمین نیپرا نے اظہارِ برہمی کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیسا جواب ہے، ہم 1970ء میں نہیں بیٹھے ہوئے۔وائس چیئرمین نیپرا رفیق شیخ نے کہا کہ آپ کو موسم کی پیش گوئی کا معلوم نہیں ہوتا عوام پس رہے ہیں۔چیئرمین نیپرا نے این پی سی سی اور سی پی پی اے کو ہدایت کی کہ بجلی کی صورتِ حال بہتر بنائیں۔

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button