ہم 32 دن کیلئے ڈیزل کا ذخیرہ چھوڑ کر گئے تھے،سابق وزیرخزانہ نےحکومت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے وجہ بتادی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سابق وزیر خزانہ نے حکومت کو ڈیزل کی قلت کا ذمے دار قرار دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق ملک میں ڈیزل کی قلت کے حوالے سے سابق وزیر خزانہ سینیٹر شوکت ترین کی جانب سے ردعمل دیا گیا ہے۔ نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر شوکت ترین نے کہا کہ ہم 32 دن کیلئے ڈیزل کا ذخیرہ چھوڑ کر گئے تھے۔ان نالائق لوگوں نے پہلے ہی اعلان کر دیا کہ ڈیزل کی قیمت بڑھائیں گے اس لیے لوگوں نے ڈیزل ذخیرہ کر کے قلت پیدا کر دی۔ دوسری جانب آل پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے ڈیزل بحران پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 21 دن کا

سٹاک موجود ہے تو فراہم کیا جائے، نجی کمپنیاں ڈیزل بحران کی ذمہ دار ہیں، مسئلہ فوری حل نہ ہوا تو دو روز بعد پمپ مالکان ہڑتال کرنے پر مجبور ہونگے۔پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے عہدیداران کے مطابق ڈیزل کا بحران شدت اختیار کرتا جارہا ہے، پنجاب کے بڑے اضلاع سمیت دیگر علاقوں میں بھی ڈیزل موجود نہیں ہے ،اگر اسٹاک موجود ہے تو پٹرول پمپس پر کیوں نہیں ہے،الزام لگایا جارہا ہے کہ ڈیلرز نے مال روکا ہوا ہے،آج کل گندم کا سیزن ہے، دس ہزار لیٹر ڈیزل دو گھنٹے میں بک جاتا ہے، پی ایس او کے علاوہ کسی اور کے پاس ڈیزل اسٹوریج کی جگہ نہیں ہے،انتظامیہ پٹرولیم ڈیلرز پر پریشر ڈال رہی ہے کہ ڈیزل نہیں بیچا جارہا،ایسا سلوک ناقابل برداشت ہے، سرکاری افسران آنکھیں کھولیں اور حقیقت دیکھیں نجی کمپنیاں بالکل بھی پراڈکٹ فراہم نہیں کر رہیں، کہیں ڈیزل ہے تو صرف اور صرف پی ایس او کے پمپ پر ہے، حکومت نے کسی بھی او ایم سی کا ڈیپو ابھی تک چیک نہیں کیا ہے،حکومت آج قیمت بڑھا دے ڈیزل بحران ختم ہو جائیگا، موجودہ ڈیزل بحران کی ذمہ دار آئل کمپنیاں ہیں حکومت ان کیخلاف کارروائی یقینی بنائے،اوگرا سے روز رابطہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاہم وہ وقت نہیں دے رہے،21 دن کے ڈیزل کے ذخیرے کا بتایا جارہا ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں