صارفین پر 28ارب 90کروڑ کا اضافہ بوجھ ڈالنے کا فیصلہ

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)حکومت نے بجلی 2 روپے 86 پیسے فی یونٹ مزید مہنگی کر دی ۔ تفصیلات کے مطابق نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی ( نیپرا ) کی جانب سے بجلی کی قیمت میں 2 روپے 86 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دیدی گئی ہے ، بجلی کی قیمت میں یہ اضافہ مارچ کی فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا ہے ، جس سے صارفین پر 28 ارب 90 کروڑ روپے سے زائد کا بوجھ پڑے گا ۔بتایا گیا ہے کہ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی ( سی پی پی اے ) نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی درخواست نیپرا میں جمع کروا ئی تھی ، درخواست ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں جمع کروائی گئی تھی ،
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ مارچ کے مہینے میں 10 ارب یونٹ بجلی پیدا ہوئی ، جس سے بجلی کی پیداواری لاگت 94 ارب روپے رہی ، اسی دوران فرنس آئل سے 22 روپے 52 پیسے فی یونٹ میں مہنگی ترین بجلی پیدا کی گئی جب کہ ایل این جی سے پیدا ہونے والی بجلی کی لاگت 14 روپے 36 پیسے فی یونٹ رہی اور 17 روپے 35 پیسے فی یونٹ میں ایران سے بجلی درآمد کی گئی ، 27 پیسے فی یونٹ بجلی لائن لاسز کی نظر ہوگئی ۔خیال رہے کہ ابھی چند روز قبل ہی بجلی فی یونٹ 4 روپے 85 پیسے مہنگی کی گئی تھی ، نیپرا نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹی فکیشن بھی جاری کر دیا تھا ، نوٹی فکیشن کے مطابق بجلی فروری کی ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں مہنگی کی گئی ، صارفین سے وصولی اپریل کے بجلی کے بلوں میں کی جائے گی ، صارفین پر جی ایس ٹی کے سوا پونے 38 ارب روپے کا بوجھ پڑے گا تاہم فیصلے کا اطلاق کے الیکٹرک صارفین پر نہیں ہوگا۔دوسری طرف حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ واپس لینے کا امکان ہے کیوں کہ حکومت کا خیال ہے سستی پیٹرولیم مصنوعات کے لیے اربوں روپے کے اس بڑے پیکج سے عوام کو سبسڈی دینا کوئی قابل عمل آپشن نہیں ہے اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) بھی اسلام آباد کے ساتھ اپنا پروگرام جاری رکھنے کے لیے اس فیصلے سے ناخوش ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں