احتجاج کے دوران قانون کی خلاف ورزی پر قانون حرکت میں آئے گا،قمر زمان کائرہ کی پی ٹی آئی کو تنبیہ

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی مشیر قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ احتجاج کے دوران قانون کی خلاف ورزی پر قانون حرکت میں آئے گا، خان صاحب! جلسے جلوس کرنا،اسلام آباد آنا آپ کا قانونی حق ہے، لیکن کس سے انتخابات کا مطالبہ کرنا چاہتے ہیں؟ الیکشن کمیشن7 ماہ سے پہلے آئینی لحاظ سے انتخابات نہیں کرا سکتا۔ انہوں نےنجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خان صاحب جلسے جلوس، ریلیاں نکالنا چاہتے ہیں ان کا حق ہے، اسلام آباد آنا چاہتے ہیں بالکل آئیں ، آئینی قانونی راستے کے مطابق احتجاج کرنا ان کا حق ہے، انہوں نے قانون کی خلاف ورزی کی تو قانون بھی حرکت میں آئے گا۔

عمران خان وہ آکر کن سے اور کس انتخاب کا مطالبہ کرنا چاہتے ہیں؟ وہ تو خود کہتے تھے کہ اسمبلی کو مدت پوری کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا ایجنڈا اصلاحات کے بعد الیکشن ہیں، لیکن یہ بتائیں کہ اگر آئی ایم ایف مذاکرات ہورہے ہیں تو ہم ان سے کہہ دیں ہم نے مذاکرات نہیں کرنے؟ انرجی مسائل ہیں، ایل این جی امپورٹ کرنی ہے، بجٹ آرہا ہے، ہم کہیں کہ ہم بجٹ سے پہلے فارغ ہوجائیں گے، الیکشن کمیشن کہتا ہے کہ 7 ماہ سے پہلے آئینی لحاظ سے الیکشن نہیں کرا سکتے، تو ان سے کہیں کہ نہیں جی آپ جلد الیکشن کرا دیں۔ملک کے مسائل گھمبیر ہیں ہمیں مل کر اس کا حل نکالنا ہوگا، ہم نے کہا کہ سب جماعتیں مل کر اس ملک کو گرداب سے نکالیں، نوازشریف کے ساتھ صدارت یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی۔دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء فواد چودھری نے پارٹی اجلاس کے بعد آج یہاں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں چیف الیکشن کمشنر کے رویئے کا جائزہ لیا گیا، چیف الیکشن کمشنر کے رویئے سے لگ رہا ہے کہ وہ ن لیگ کے کارکن ہیں، چیف الیکشن کمشنر چاہتے ہیں تو ن لیگ میں عہدہ لے لیں، کل پورا پاکستان چیف الیکشن کمشنر کے جانبدارانہ رویے پر احتجاج کرےگا، الیکشن کمیشن کا کردار پاکستان کے مفاد کے مطابق ہونا چاہیے۔رہنما تحریک انصاف فواد چودھری نے کہا کہ منحرف ارکان کیخلاف ریفرنسز ملنے کے باوجود نوٹیفکیشن کے اجراء میں کمیشن کیوں تاخیر کررہا ہے، کمیشن منحرف ارکان کیخلاف فوری نوٹیفکیشن جاری کرے، نوٹیفکیشن میں اجراء میں مزید تاخیر آئین سے انحراف کے مترادف ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں