وزیراعظم عمران خان نے الیکشن کمیشن پر نوازشریف کی جانبداری کا الزام عائد کردیا

کمالیہ (نیوز ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے الیکشن کمیشن پر نوازشریف کی جانبداری کا الزام عائد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ میری حکومت گری تو لندن بیٹھا بھگوڑا فوری واپس آجائے گا، الیکشن کمیشن پہلے ہی اس کے ساتھ ہے ، نوازشریف میڈیا کو خرید کرپہلے عدلیہ اور پھر فوج پر سیاسی حملہ کرے گا،سب سے پہلے لفافہ صحافت اور چھانگامانگا کی سیاست اسی نے شروع کی تھی۔انہوں نے کمالیہ میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمالیہ میں بھی ڈیزل سستا ہوگیا ہے ؟ ڈیزل اور پیٹرول کو سستا کرنے کیلئے بڑا پیسا خرچ کیا۔ ریاض فتیانہ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں،

میں نہیں سمجھتا تھا کہ کمالیہ میں اس طرح پنڈال بھریں گے، مبارکباد دیتا ہوں۔ بات کا آغاز کرتا ہوں کہ آصف زرداری ، جس کی قیمت نیچے آگئی ہے ڈیزل، سب سے زیادہ جوتے پولش کرنے کا ایکسپرٹ مقصود چپڑاسی والا شہبازشریف ہے۔ان تینوں کی شکلیں دیکھ کر لوگوں کواتنا خوف آیا کہ یہ پھر واپس نہ آجائیں لوگوں کے دل اللہ نے میری طرف موڑ دیے میں سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ وہ لوگ جو دس سال کیلئے سو گئے تھے وہ اب سب واپس آگئے ہیں۔میں نے ساری دنیا دیکھی ہوئی ہے، برطانیہ کا سارا انتظامی سسٹم، ان کا نظام سارا اندر سے دیکھا ہے، پاکستان کا کوئی ایسا سیاستدان نہیں جس نے اتنا برطانیہ کا مطالعہ کیا ہو، نوجوانوں کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ جب تک قوم اچھے اور برے کی تمیز نہیں کرتی تو وہ قوم مر جاتی ، مولانا رومی نے کہا کہ دو درختوں کی مثال دی، ایک خوشبودار اور دوسرا بدصورت درخت، جب کوئی ان درختوں میں کوئی فرق کرنا چھوڑ دے وہ قو مر جاتی ہے۔اللہ کا قرآن میں حکم ہے امر باالمعروف، حکومت کو قانون بالادستی اور انصاف کا حکم دیا، لیکن عوام کو اللہ نے حکم دیا کہ تم اچھائی کے ساتھ کھڑے ہوجاؤ اور برائی کیخلاف جہاد کرو۔ جب آپ معاشرے میں اچھائی اور برائی دیکھتے ہیں تواللہ نے نیوٹرل کا فیصلہ انسان کو نہیں دیا، جب آپ دیکھتے ہیں کہ ملک سے سب سے بڑے چور ،ڈیزل نام لو تو کیوں لوگ شور مچاتے ہو، سیاست اسلام کے نام پر کرتے ہیں اور دین ڈیزل کے پرمٹ پر بیچتے ہیں، دوسری طرف سب سے بڑی بیماری، اربوں روپے کیسز ہیں، فیک اکاؤنٹ اور جعلی طریقے

سے پیسا باہر بیچا، تیسرا چیری بلوسم شریف ، مقصود چپڑاسی کے اکاؤنٹ میں 375اور سارے نوکروں کے بینک اکاؤنٹس میں16ارب آجاتا ہے، ابھی تک بچ رہا ہے، اس کا کیس لگنے والا ہے، اس کو پتا ہے اس کا وقت آنے والا ہے۔اگر عمران خان تھوڑی دیر رہ گیا تو جیل میں جانا ہے۔ ایک چوتھا فنکار ہے جو لندن میں بیٹھا ہوا ہے، اس کا کیس پہلے عدالت سے مجرم قراردیا گیا، اس کی بیٹی کے نام پر پانامہ میں پتا چلا کہ اربوں کے چار بڑے محلات لندن میں ہیں۔ پہلے کہتے تھے کہ ملک دیوالیہ ہے نکل نہیں سکتا، پھر کورونا آگیا ،سب لندن میں بیٹھے تھے، ایسے لگتا تھا کہ یہ گوالمنڈی میں نہیں ملکہ

کوئین کے گھر پیدا ہوئے ہیں، اسحاق ڈار کے والد بڑے محنت کش تھے سائیکلوں کی دکان تھی، آج ان کا رہن سہن دیکھ رک پتا چلتا ہے کتنا پیسا لوٹا ہے،اب یہ سارے نیب زدہ اکٹھے ہوئے اور مل کر کہا کہ عمران خان کی حکومت گراؤ، نیب کو ختم کرو اور کرپشن کیسز کو ختم کرو، پہلے کوشش کی کہ عمران خان ان کو این آر او دے دے گا۔مشرف نے ان کو این آراو دے دیا ، ساری کرپشن ختم ہوگئی ، پھر حکومت میں آکر دس سالوں میں کرپشن کی، کیس ان کے تب بنے، عمران خان پر زور لگا رہے ہیں اگر کرپشن کیسز معاف نہیں کیے تو حکومت نہیں چلنے دیں گے، ان تین چوہوں کو پیغام دیتا ہوں

کہ حکومت جانی معمولی چیز ہے، میری جان بھی چلی جائے تمہیں میں کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ ان کی کوشش ہے میری حکومت گرا کر کرپشن کیسز ختم کریں اور لندن بیٹھا بھگوڑا جلدی سے واپس آجائے گا۔یہ آکر کیا کرے گا، الیکشن کمیشن پہلے ہی اس کے ساتھ ہے ، میڈیا کو پیسا چلائے گا، لفافہ صحافت اس کے دور میں شروع ہوئی، یہ پہلا کام عدلیہ پر حملہ کرے گا، پہلی بار سپریم کورٹ پر حملہ اس نے کیا تھا، سجاد علی شاہ کو بھگایا اور ججز کو بریف کیس دیے۔ میں اس کو تب سے جانتا ہوں جب یہ کرکٹ کھیلنے کی پوری کوشش کرتا تھا۔ جم خانے میں کرکٹ اپنے ایمپائز کھڑے کرکے کھیلتا تھا،

ایک ایمپائز چیف سیکرٹری اور دوسرا لاہور کا کمشنر ہوتا تھا۔ادھر بھی روندی مارتا تھا۔ اس نے صحافت میں پیسا چلایا، ججز خریدے، چھانگا مانگا کی سیاست شروع کی، بھیڑ بکریوں کی طرح پہلی بار سیاستدانوں نے خود کو بیچنا شروع کیا۔ ابھی سے سپریم کورٹ پر تنقید کررہا ہے، ججز کو اپنے ساتھ ملا رہا ہے ۔ اس کا اگلا حملہ پاکستان کی فوج کے اوپر ہوگا، سب آرمی چیف کے ساتھ اس کے اختلافات رہے، کیوں اختلاف ہوتا ہے اس لیے کہ آرمی کے پاس جو ایجنسیز ہیں ان کو سب سے پہلے کرپشن کا پتا چل جاتا ہے، یہ فوج کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا تو اختلافات ہوتے ہیں۔

یہ مودی سے ملنے کی کوشش کرتا رہا، نیپال میں چھپ چھپ کر مل رہے تھے جیسے ان کے بیچ میں رومانس چل رہا ہے۔ چھپ کر اس لیے مل رہے تھے کہ نوازشریف کو فوج سے ڈر لگ رہا تھا۔ ڈان لیکس ہندوستان کو پیغام پہنچانا تھا کہ میں دوستی کرنا چاہتا ہوں لیکن فوج نہیں کرنے دیتی۔ یہ لوگ اپنے پیسے کے غلام ہیں، یہ کبھی آزاد خارجہ پالیسی نہیں بنا سکتے۔ شہباز شریف کہتا عمران خان کو یورپی یونین پر تنقید نہیں کرنی چاہیے، لیکن دوسری طرف یورپی یونین کے سفیر نے مجھے فون کیا کہ روس یوکرین جنگ میں کردار ادا کریں۔پھر کہتا عمران خان کو ابسولوٹلی ناٹ نہیں کہنا چاہیے تھا،

میں نے اس لیے کہا کہ امریکا کی جنگ میں شرکت کی تو ہمیں کیا ملا؟ ہمیں دوغلے کہا گیا، افغانستان میں جنگ نہیں جیتی گئی تو پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔میں نہیں کہتا کہ امریکا اور یورپی یونین سے ہم تعلقات خراب کریں، لیکن تعلقات اچھے کرنے اور جوتے پالش کرنے میں بڑا فرق ہے۔آپ اور آپ کا بڑا بھائی اور آصف زرداری باہر کی قوتوں کی غلامی اس لیے کریں گے ان کا اربوں روپیہ باہر پڑا ہے، یہ چوری کے پیسے کی غلامی کریں گے، یاد رکھو کبھی اس پارٹی کو ووٹ نہ دو، جس کے سربراہ کا پیسا ملک سے باہر پڑا ہے۔وہ کبھی خارجہ پالیسی کو آزاد نہیں ہونے دے گا۔

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button