پیپلزپارٹی سے نہ کوئی معاہدہ ہوا ہے نہ کوئی اتحاد ہوا ہے،خالد مقبول صدیقی نے تردید کردی

کراچی (نیوز ڈیسک ) متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت سے اتحاد کی تردید کر دی۔انہوں نے کراچی میں تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ سندھ حکومت سے نہ کوئی معاہدہ ہوا ہے نہ کوئی اتحاد ہوا ہے۔ہم اپوزیشن کے کردار کو مضبوط اور مثبت کرنا چاہتے ہیں۔ہم شہری علاقوں کے مطالبات پر احتجاج کر رہے ہیں۔ہم چاہتے تھے سندھ حکومت مطالبات سنے، تسلیم کرے اور عمل کرے۔صوبائی حکومت ہمیں سننے کو تیار ہی نہیں ہوئی ہے اور ہم نے مطالبات پیش کر دئیے ہیں۔خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ ہم نے ہی پی کو اپنے

مطالبات کی یادداشت پیش کر دی ہے۔مطالبات پر عملدرآمد کے لیے میکنزم تیار کرنے کے لیے پھر بیٹھیں گے۔ یہاں واضح رہے کہ گذشتہ روز بتایا گیا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے بعد ن لیگ نے بھی ایم کیو ایم کے مطالبات مان لیے۔ رات گئے مسلم لیگ ن کے وفد کی ایم کیو ایم رہنماؤں سے پارلیمنٹ لاجز میں ملاقات ہوئی۔دونوں جماعتوں میں مشاورت حتمی مرحلے میں داخل ہو گئی۔رپورٹ کے مطابق ن لیگ نے ایم کیو ایم کے وفاق سے متعلق مطالبات کو مان لیا۔ ملاقات میں مردم شماری اور بلدیاتی قانون کو آئینی تحفظ دینے پر اتفاق کیا گیا جب کہ سرکلر ریلوے اور کے فور سمیت دیگر اہم نکات پر بھی اتفاق ہوا۔دونوں جماعتوں کے درمیان معاملات کو مسودے کی شکل میں لایا جائے گا، ایم کیو ایم ذرائع نے کہا کہ گورنر شپ اور وزارت ہمارے ایجنڈے میں شامل ہی نہیں ہے۔قبل ازیں ہ وفاقی حکومت کے اتحاد میں شامل ایم کیو ایم کے اپوزیشن کے ساتھ معاملات طے پانے کی اطلاعات آئیں۔ معاملے پر متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنماء عامر خان نے حکومت یا اپوزیشن کا ساتھ دینے کے حوالے سے کہا ہے کہ مشاورت جاری ہے اور اس حوالے سے ابھی تک کوئی بھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ، ساری چیزیں جب تک طے نہیں ہوں گی حتمی فیصلہ نہیں ہوسکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں