اب مذاکرات کس سے ہونگے،ترین گروم نے دوٹوک اعلان کردیا

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)جہانگیر ترین گروپ کے رہنما عون چوہدری کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو ہٹانے کے بعد ہی مذاکرات نتیجہ خیز ہو سکتے ہیں۔عثمان بزدار کو ہٹائے بغیر معاملات آگے نہیں بڑھ سکتے۔ جہانگیر ترین گروپ نے مائنس بزدار مطالبہ واپس لینے کی حکومتی درخواست ایک بار پھر مسترد کردی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے مذاکرات اب وزیراعظم عمران خان یا وفاقی ٹیم سے ہوں گے۔ڈاکٹر مراد راس سے ملاقات میں ترین گروپ نے کوئی لچک نہیں دکھائی۔عون چوہدری نے کہا کہ پہلے بزدار کی تبدیلی پھر دیگر ایجنڈے پر بات چیت ہو گی، ہم مائنس عثمان بزدار کے مطالبے پر کھڑے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ترین گروپ کے اراکین کی وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقاتوں میں کوئی حقیقت نہیں۔ترین گروپ کی وزیراعلیٰ سے ملاقاتوں کی پرانی تصاویر نکالی جا رہی ہیں۔گروپ کے سینئر رہنما عون چوہدری نے کہا ہے کہ ہمارے اپوزیشن اور حکومت سے رابطے جاری ہیں، روزانہ کی پیش رفت کے حوالے سے باہمی مشاورت بھی کررہے ہیں، حکومتی شخصیات کو ہر مرتبہ واضح کیا کہ وزیر اعلی پنجاب کی تبدیلی کے بعد ہی مزید مذاکرات ممکن ہیں اور عثمان بزدار کی تبدیلی کے مطالبے سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔قبل ازیں ترین گروپ کے رہنما عون چوہدری نے جہانگیر ترین کو فون کرکے بتایا کہ پنجاب میں تبدیلی کے لئے مثبت اشارے ملے ہیں جبکہ جہانگیر ترین کا کہنا ہے کہ گروپ متحد رہے اور مشاورت سے فیصلے کرے۔ میڈیا رپورٹس کے مطا بق ترین گروپ کے سربراہ جہانگیر ترین سے عون چوہدری نے ٹیلی فونک رابطہ کرکے حکومتی شخصیات سے رابطوں اور ملاقاتوں کے حوالے سے بریف کیا اور پرویز خٹک کے رابطے اور ملاقات کے حوالے سے بھی آگاہ کیا۔ عون چوہدری نے جہانگیر ترین کو بتایا کہ وفاقی وزیر پرویز خٹک نے ملاقات کی اور کہا ہے کہ ابھی ترین گروپ اپنے فیصلے روک لے، اس ملاقات میں پنجاب میں تبدیلی کے لئے مثبت اشارے ملے ہیں، جب کہ پنجاب کی اہم شخصیات نے بھی ترین گروپ کے رہنماؤں سے ملاقات کی ہے۔عون چوہدری کے مطابق جہانگیر ترین نے کہا ہے کہ گروپ متحد رہے اور مشاورت سے فیصلے کرے۔ جب کہ جہانگیر ترین ڈاکٹرز کی اجازت کی صورت میں ایک ہفتے میں وطن واپس آسکتے ہیں ۔

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button