دنیا کو علم ہونا چاہیے اسلام امن پسند مذہب ہے،وزیراعظم کا او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل سے خطاب

اسلام آباد ( نیوز ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مذہب کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں‘ دنیا کو علم ہونا چاہیے اسلام امن پسند مذہب ہے ، قانون کی حکمرانی نہ ہونا غریب ممالک کا سب سے اہم مسئلہ ہے‘ ریاست مدینہ میں کوئی قانون سے بالاتر نہیں تھا ‘ اسلام میں قانون کی بالادستی اور انصاف کو ترجیح حاصل ہے ، معاشرے کی تباہی کی بڑی وجہ بے حیائی ہے جس سے خاندانی نظام تباہ ہوتے ہیں ۔تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ او آئی سی رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کی آمد پر ان کا مشکور ہوں ،

یوم پاکستان پر اوآئی سی کانفرنس کا انعقاد باعث مسرت ہے ، اقوام متحدہ نے 15مارچ کو اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن قرار دیا ، اسلاموفوبیا کے خلاف یو این نے قرار داد منظور کی ، نائن الیون کے بعد اسلاموفوبیا میں اضافہ ہوا ، مذہب کو دہشت گردی سے جوڑا گیا جو غلط تھا ، دنیا اسلاموفوبیا کےواقعات پر خاموش رہی ، حالاں کہ مذہب کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ، مسلم دنیا نے اسلاموفوبیا کے خلاف کاموشی اختیار کیے رکھی ، ڈیڑھ ارب مسلمانوں کو دہشت گردی کے ساتھ کیسے جوڑا جاسکتا ہے؟ اسلام صرف ایک ہے جس کی تعلیم حضور ﷺ نے دی ۔ وزیراعظم نے کہا کہ اسلام کا کوئی رنگ نہیں اسلام صرف ایک ہی ہے ، اسلام کا کسی طور پر بھی دہشت گردی اور انتہا پسندی سے تعلق نہیں ہے لیکن دنیا کے ہر کونے میں مسلمانوں کو اسلاموفیا کے واقعات کا سامنا ہے ، 15 مارچ کو نیوزی لینڈ میں مسجد میں لوگوں کو شہیدکیا گیا ، انتہا پسند سوچ کسی کی بھی ہوسکتی ہے مگر اسلام کو کیوں اس سے جوڑا گیا ، اسلام کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑنے سے زیادہ متاثر مغرب میں رہنے والے مسلمان ہوئے ۔انہوں نے کہا کہ 25سال پہلے سیاست میں آنے کا مقصد یہ بھی تھا اسلاموفوبیا کےخلاف آواز اٹھاوں ، دنیا کو علم ہونا چاہیے اسلا م امن پسند مذہب ہے ، ریاست مدینہ ہر انسان کے لیے امن کی ضمانت رہی ہے ، مغرب میں مسلمانوں کو اسلاموفیا کے واقعات کا شکار ہوتے دیکھا لیکن بدقسمتی سے مسلمانو ں نے اسلاموفوبیا کے خلاف واقعات کو چیلنج نہیں کیا ، دنیا میں صرف ایک ہی اسلام ہے جو حضرت محمد
ﷺ کا ہے ،

ریاست مدینہ میں کوئی قانون سے بالاتر نہیں تھا ، حضرت محمد ﷺنے فرمایا اگرمیری بیٹی بھی چوری کرتی تو سزا ہوتی کیوں کہ اسلام میں قانون کی بالادستی اور انصاف کو ترجیح حاصل ہے۔ عمران خان نے کہا کہ اسلامی اقدار کو آج سے زیادہ خطرہ پہلے کبھی نہیں تھا ، ریاست مدینہ میں کوئی قانون سے بالاتر نہیں تھا ، غریب ممالک طاقتور چوروں کو قانون کے کٹہرے میں نہ لانے کی وجہ سے مشکلات میں ہیں ، 40 سال ہوگئے کوئی قوم افغانستان کی طرح متاثر نہیں ہوئی ، ہم مسئلہ فلسطین اور کشمیر میں بھی ناکام ہوئے ، مقبوضہ کشمیر میں خود مختاری غیر قانونی طور پر ختم کی گئی ، عالمی برادری نے مسئلہ کشمیر کے حلا کے لیے کبھی دباؤ محسوس نہیں کیا ، ڈیڑھ ارب آبادی ہے مگر ہم اس قابل نہیں کہ مظالم کو روک سکیں۔

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button