منحرف ارکان کو سزا دینا اسی طرح اہم ہے جیسے ملک کے غداروں کو دی جاتی ہے،فواد چوہدری

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ منحرف ارکان کو سزا دینا اسی طرح اہم ہے جیسے ملک کے غداروں کو دی جاتی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کردہ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کے تحت ریفرینس سپریم کورٹ کو یہ موقعہ دے رہا ہے کہ ملک میں جاری ہارس ٹریڈنگ ، موقعہ پرستی اور کرپشن کے ڈرامے ہمیشہ کیلئے ختم ہو سکیں۔وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف سے منحرف ارکان نے اپنی جماعت نہیں بلکہ ملک کی پیٹھ میں

خنجر گھونپا انہیں سزا دینا اسی طرح اہم ہے جیسے ملک کے غداروں کو دی جاتی ہے۔ ادھر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس دائر کر دیا ، ریفرنس اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کی طرف سے دائر کیا گیا ، جس میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے صدارتی ریفرنس کے مسودے میں سپریم کورٹ سے 4 سوالوں کی تشریح مانگی گئی ، مسودے میں سوال کیے گئے ہیں کہ آرٹیکل 63 اے کی کونسی تشریح قابل قبول ، کیا پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دینے سے نہیں روکا جاسکتا؟ پارٹی پالیسی کےخلاف ووٹ شمارنہیں ہوگا ، کیا ایسا ووٹ ڈالنے والا تاحیات نااہل ہوگا؟۔صدارتی ریفرنس میں سپریم کورٹ سے یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ کیا منحرف ارکان کا ووٹ شمارہوگا یا نہیں؟ پارٹی پالیسی کیخلاف ووٹ دینے والا رکن صادق اور امین نہیں رہے گا تو کیا ایسا رکن تاحیات نااہل ہوگا؟ فلور کراسنگ یا ہارس ٹریڈنگ کو روکنے کے مزید کیا اقدامات ہو سکتے ہیں؟ آرٹیکل 63 اے میں نااہلی کی مدت کا تعین نہیں کیا گیا۔ قبل ازیں ہارس ٹریڈنگ کے خلاف ریفرنس کا ڈرافٹ عمران خان کو موصول ہوا ، بابر اعوان کی ہدایت پر ہارس ٹریڈنگ کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سمری وزارت پارلیمانی امور نے وزیر اعظم کو ارسال کی تھی ۔دوسری جانب لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 63 اے کا اطلاق اس پر ہوتا ہے جس نے پارٹی کےخلاف ووٹ دیاہو ، رکن اسمبلی ووٹ سے پہلے نااہل نہیں ہوسکتا ۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ اسلام آباد

میں جوکچھ ہو رہا ہے وہ سب کےسامنے ہے جبکہ راجہ ریاض کہہ رہا ہے ہمارے پاس 24 بندے ہیں ، وہ کہہ رہاہے ، ن لیگ کے پاس اتنی ٹکٹس نہیں جتنے بندے ہیں ، آپ پیسے پربکو یا ٹکٹ پر یہ سودے بازی ہے۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 14 ارکان قومی اسمبلی کو اظہارِ وجوہ کے نوٹسز جاری کیے ہیں ، نوٹس میں کہا گیا ہے کہ آپ نے خود سے منسوب اطلاعات کی تردید کی نہ ہی کوئی وضاحت سامنے آئی، دستور کی دفعہ 63 اے آپ کوجماعتی ہدایات پرعمل کرنےکا پابند بناتا ہے لہٰذا قومی اسمبلی میں پارلیمانی پارٹی کےسربراہ کے روبرو پیش ہو کر صفائی پیش کریں اور اظہارِوجوہ کے نوٹس کا جواب دیں۔ نوٹس کے متن کے مطابق ذرائع ابلاغ پرآپ کی جماعت سےعلیحدگی کی اطلاعات زیرِگردش ہیں اور اطلاعات کے مطابق آپ پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی سے علیحدہ ہوکرحزب اختلاف کاحصہ بن چکے ہیں ، حزب اختلاف کی یہ جماعتیں وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لاچکی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں