وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد، امریکی سفارتخانے میں خصوصی سیل قائم

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد، امریکی سفارتخانے میں خصوصی سیل قائم کر دیا گیا۔جنگ اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر امریکا و یورپی ممالک نے نظریں جما لی ہیں۔وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے بعد کی صورتحال کی مانیٹرنگ کے لیے امریکی سفارتخانے میں خصوصی سیل بھی بنا دیا گیا ہے جب کہ دیگر ممالک کے سفارتخانوں نے بھی سیاسی صورتحال کے حوالے سے اپنے ممالک کو رپورٹس بھجوانا شروع کر دیں،سفارتکاوں کی پاکستانی سیاستدانوں سے ملاقاتوں پر پاکستان کے ردعمل

کے بعد امریکی سفارتکار کی بعض سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے بیرون ملک ملاقاتوں کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے متحدہ اپوزیشن سرگرم ہے۔اپوزیشن کا حکومت کے خلاف ’پلان بی‘ سامنے آ گیا ہے، اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹانا پلان اے ہے، اتحادی جماعتوں، منحرم ارکان سے رابطے پلان کا حصہ تھے، تحریک عدم اعتماد میں ناکامی کی صورت پلان بی پر عمل کیا جائے گا۔تحریک عدم اعتماد ناکام پونے پر پلان بی پر فوری عمل درآمد ہو گا۔پلان بی میں منحرف ارکان اسمبلی کے استعفوں کا آپشن بھی موجود جب کہ وزیراعظم سے اعتماد کا ووٹ لینے کا قانون و آئینی طریقہ کار کے مطابق مطالبہ کیا جائے گا اور اس حوالے سے صدرِ ملکت ، اسپیکر اسمبلی کو تحریر طور پر معاملے پر آگاہ کیا جائے گا۔ خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے متحدہ اپوزیشن سرگرم ہے۔وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے کم از کم 172 ارکان درکار ہیں، تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں کی کل تعداد 179 بنتی ہے، اپوزیشن کے پاس 162 ارکان کی حمایت موجود ہے، قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے 155، مسلم لیگ ق کے 5، ایم کیو ایم کے 7، جی ڈی اے کے 3، آل پاکستان مسلم لیگ کا 1، بلوچستان عوامی پارٹی کے 5 اور شاہ زین بگٹی کی ایک نشست ہے جبکہ ایوان میں کل 4 آزاد امیدوار ہیں، دو ارکان حکومت کے ساتھ ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق اپوزیشن میں ن لیگ کی 84، پیپلزپارٹی 56 ، اے این پی 1، ایم ایم اے 15 اور دو آزاد امیدوار شامل ہیں، اپوزیشن ارکان کی کل تعداد 162 بنتی ہے۔ حزب اختلاف کو اپنی تحریک عدم اعتماد کامیاب کرانے کیلئے مسلم لیگ ق اور ایم کیو ایم کی حمایت کی ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں