یہ 30، 35 سال باریاں لے کر جو کام نہیں کر سکے، ہم نے وہ ساڑھے تین سال میں کر دکھایا، وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن کو چیلنج ہے ساڑھے3 سال میں 30 سال جتنے کام کیے، 8 ہزارارب سالانہ سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کرکے دکھاؤں گا، صحت کارڈ، ڈیمز، ترسیلات زر، کنسٹرکشن انڈسٹری سمیت ریکارڈ کام کیے،پہلی بار نچلے طبقات کو اوپر اٹھایا گیا، ڈاکوؤں کے ٹولے کو ڈر لگا ہوا ہے ان کی دکانیں بند ہوجائیں گی۔انہوں نے اورسیز ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کا مشکور ہوں کہ ٹماٹر اور پیاز کی قیمتیں ہی بھلا دی ہیں،عالمی سطح پر مہنگائی کا ایک سیلاب ہے، میں اور میری ٹیم سوچ رہی ہے کہ مہنگائی کو کم کیسے کریں؟

اب اپوزیشن نے جب عدم اعتماد کیا ہے تو لوگ دیکھتے ہیں ایک طرف نوازشریف اور شہبازشریف، دوسری طرف آصف زرداری ، میں رات سوچ رہا تھا کہ ملک یکدم بدل کیسے گیا؟ ایک دم مہنگائی سب بھول گئے۔ اب جب یہ تین اکٹھے ہوئے، نوازشریف کے لوگوں نے 20 بتایا کہ زرداری سے بڑا کرپٹ کوئی نہیں ہے، ان کو جیل میں ڈالا، پھر زرداری نے اپنی پارٹی کو بتایا کہ نوازشریف سے بڑا کوئی کرپٹ نہیں ہے، منی لانڈرنگ کا کیس بنایا، فضل الرحمان کو ڈیزل کہنا ن لیگ نے شروع کیا تھا، ڈیزل اس لیے کہ وہ ڈیزل کے پرمٹ سے پیسے بناتا تھا۔ یہ سب ایک دوسرے کو چور سمجھتے ہیں اب تینوں اکٹھے ہوئے ہیں تو قوم شکریہ ادا کرتا ہوں لوگ کہتے ہیں اگر ان تینوں نے پاکستان کو بچانا ہے تو بہتر ہے عمران خان کے ساتھ ڈوب جاؤ۔ان تینوں نے اکٹھے ہوکر میرے خلاف عدم اعتماد کا فیصلہ کیا۔ جب عدم اعتماد آئی تو میں نے اللہ سے دو نفل پڑھ کر شکریہ ادا کیا، یہ تینوں کپتان کی بندوق کی نشانے پر آگئے ہیں، انہوں نے وہ کام کردیا ہے، ان کو غلط فہمی تھی کہ قوم ان کے ساتھ کھڑی ہوجائے گی،یہ قوم کو جانتے نہیں ہیں، انہوں نے سیاست میں محنت تو کی نہیں ہے، ان کو غلط فہمی ہے کہ لوگ تینوں کی کرپشن بھول گئے ہیں۔ نوازشریف جنرل جیلانی کی چھتوں پر سریا لگاتے وزیراعظم بنے، زرداری پرچہ بنا کر صدر بن گیا۔مولانا فضل الرحمان 30 سال سے دین بیچ رہا ہے۔ انہوں نے محنت تو کی نہیں باہر سے اٹھا کر لایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیشنگوئی کرتا ہوں کہ ان کی عدم اعتماد ہی ناکام نہیں ہوگی بلکہ 2023کا الیکشن بھی چلا گیا۔ ساڑھے 3 سال میں جو کام کیے کسی نے 30 سال میں نہیں کیے، ڈاکوؤں کے ٹولے کو ڈر لگا ہے ان کی دکانیں بند ہوجائیں گی، 8 ہزار ارب روپے سالانہ سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کرکے دکھاؤں گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں