وزارت اعلیٰ پنجاب کی پیشکش کرنے والوں کا ساتھ دیں گے،ق لیگ نے اپنی پوزیشن واضح کردی

لاہور(نیوز ڈیسک)ق لیگ کے ذرائع کے مطابق وزارت اعلیٰ پنجاب کی پیش کش کرنے والوں کا ساتھ دیں گے۔ نجی ٹی وی کے مطابق مسلم لیگ ق نے حکومت یا اپوزیشن کا ساتھ دینے کے حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کر دی ہے۔ ذرائع کے حوالے سے بتایاگیا ہے کہ مسلم لیگ ق نے واضح کر دیا ہے کہ جو انہیں پنجاب کی وزارت اعلیٰ کی پیش کش کرے گا، اس کا ساتھ دیں گے۔مزید کہا گیا ہے کہ ن لیگ کے ساتھ نظریاتی اختلاف ہے، خواہش ہے معاملات طے ہوں اور حکومت کے ساتھ رہیں۔ دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ ق کے مرکزی رہنماء اور اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی نے عدم

اعتماد سے قبل وزیراعظم کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ انہوں نے کہا کہ سارے اتحادیوں کا 100فیصد رجحان اپوزیشن کی طرف ہے، عمران خان 100فیصد مشکل میں ہیں۔انہوں نے ہم نیوز کے پروگرام میں اینکر مہر بخاری سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ، پیپلزپارٹی، مولانا کا اتحاد پکا اور دیرپا ہے، مخالفین ایک شخص کیخلاف ایک ہوں تو تلخیاں بھلا دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سارے اتحادیوں کا 100فیصد رجحان اپوزیشن کی طرف ہے، عمران خان 100فیصد مشکل میں ہیں۔دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ق) کے قائد چوہدری شجاعت حسین نے اپیل کی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن ملک کے اعلیٰ ترین مفاد میں اپنے جلسے منسوخ کردے ۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کے موجودہ نامساعد معاشی اور سیاسی حالات اس خطرناک محاذ آرائی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ غربت اور مہنگائی کی چکی میں پسنے والے عوام حکومت اور اپوزیشن کے جلسوں اور نمبروں کی سیاست سے سخت پریشان ہیں۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ حیرانگی کی بات یہ ہے کہ اپوزیشن تو جلسوں کی سیاست کرتی ہی ہے مگر اس وقت حکومت بھی اس کے مقابلے میں جلسے کرنے لگ گئی ہے جو حکومت کا کام نہیں ہے۔یہ سیاسی مسابقت ملک میں ایسی سیاسی افراتفری اور بحران پیدا کر سکتی ہے جس کا فائدہ پاکستان کے اندرونی وبیرونی دشمنوں کو ہو سکتا ہے۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ دونوں فریقین اپنے اپنے کارکنان کو اشتعال انگیز سیاست کا راستہ مت دکھائیں۔ آئین وجمہوریت کی پاسداری

کیلئے ہار اور جیت کو انا کا مسئلہ بنائے بغیر جمہوری طریقے کے مطابق ووٹنگ میں حصہ لیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ نے ہمیشہ ملکی مفاد کی سیاست کی ہے، ہمیں چھوٹی پارٹی کہنے والے بھول گئے ہیں کہ ہم نے ملک اور جمہوریت کی خاطر بڑے فیصلے کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دوسروں کی مخالفت مول لینے کے باوجود ہم نے ہمیشہ تدبیر اور صلح جوئی کو ترجیح دی ہے اور اگر اس لڑائی میں کوئی مارا گیا یا کسی کو مروا دیا گیا تو سب پچھتائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں