نورمقدم کیس، مجرم ظاہر جعفر کی سزا کالعدم قرار؟ اسلام آباد ہائیکورٹ سے بڑی خبرآگئی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)نور مقدم قتل کیس کے مجرم ظاہر جعفر نے سزا کے خلاف اپیل کر دی۔ نور مقدم قتل کیس کے مرکزی مجرم ظاہر جعفر کو ٹرائل کورٹ کی جانب سے سزائے موت اور 25 سال قید بامشقت کی سزا و جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی جس کے خلاف ظاہر جعفر نے آج اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل دائر کر دی۔مرکزی ملزم نے سزا کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی۔دریں اثناء نور مقدم قتل کیس میں 9 ملزموں کی بریت کے خلاف اپیل پر عدالت نے تڑائل کورٹ کا ریکارڈ طلب کیا۔نور مقدم کے والد شوکت مقدم کی جانب سے ایڈوکیٹ شاہ خاور عدالت میں پیش ہوئے اور جسٹس عامر فاروق

اور جسٹس اعجاز اسحاق نے کیس کی سماعت کی۔جسٹس سردار عامر فاروق نے کہا کہ اس کیس کے مرکزی مجرم کی سزائے موت کے خلاف بھی اپیل آ ئی۔ ریکارڈ منگواتے ہیں پھر ریکارڈ سے ہی آپکو بتانا ہے۔عدالت نے نور مقدم قتل کیس سے متعلق ٹرائل کورٹ کا تمام ریکارڈ طلب کر لیا۔۔قبل ازیں ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی نے مختصر تحریری حکم نامہ جاری کیا جس میں مجرم ظاہرجعفر کو سزائے موت اور دیگر دفعات کے تحت بھی سزائیں سنائی گئی ہیں۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ مجرم ظاہر جعفر کو دفعہ 364 پر 10 سال سزا قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی گئی ہے، مجرم ظاہرجعفر کو دفعہ 342 کے تحت ایک سال قید با مشقت کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم ظاہر جعفر کو جنسی زیادتی پر 25 سال قیداور 2 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی گئی ہے ، ظاہرجعفر کو عدالتی کارروائی کے اخراجات کی مد میں 5 لاکھ روپے مدعی کو دینے کا حکم دیا ہے۔واضح رہے کہ اسلام آباد کی عدالت نور مقدم قتل کیس میں مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو سزائے موت سنائی ہے ، مالی اورچوکیدار کو بھی 10،10 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے، عدالت نے ظاہر جعفر کے والدین کو کیس سے بری کردیا ہے۔نور مقدم قتل کیس میں نامزد ظاہر جعفر پر الزام تھا کہ اس نے 20 جولائی 2021 کو اپنے گھر میں نور مقدم کو قتل کیا، پولیس نے ظاہر جعفر کو خون آلود قمیض میں سیکٹر ایف سیون اسلام آباد کے گھر سے گرفتار کیا اور آلہ قتل بھی برآمد کیا تھا۔

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button