بھارت نے میاں چنوں میں میزائل گرنے کے واقعے پر اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا

لاہور(نیوز ڈیسک)بھارتی وزارت دفاع نے میاں چنوں میں میزائل گرنے کے واقعے پر اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا۔ میاں چنوں میں بھارتی میزائل گرنے کے واقعے پر بھارتی وزیر دفاع کی جانب سے بیان جاری کیا گیا ہے۔بھارتی خبر رساں ادارے کی ٹوئٹس میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی وزارت دفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ 9 مارچ 2022 کو معمول کی دیکھ بھال کے دوران ایک تکنیکی خرابی کی وجہ سے میزائل حادثاتی طور پر فائر ہوا۔واقعہ جہاں انتہائی افسوسناک ہے، وہیں یہ بھی اطمینان کی بات ہے کہ حادثے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بھارتی حکومت نے اس سنگین غلطی کا سخت نوٹس لیتے

ہوئے واقعے سے متعلق اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔دوسری جانب اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیر دفاع کی جانب سے غلطی کا اعتراف کرنے پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ردعمل دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک حادثاتی جنگ چھڑ سکتی تھی، تحقیقات ہونی چاہئیں، اور ذمہ داروں کو کٹہرے میں لانا چاہیے، عالمی برادری دیکھے کہ بھارتی ناکارہ سسٹم خطے کے لیے کتنا خطرناک ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز ترجمان پاک فوج میجر جنرل بابر افتخار نے پریس کانفرنس کے دوران میاں چنوں میں بھارتی میزائل گرنے کے واقعے کی تصدیق کی تھی۔انہوں نے بتایا کہ 9مارچ کو 6 بج کر 33 منٹ پر ایک شے نے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی۔ پاکستان ایئرفورس نے اس چیز کی مکمل مانیٹرنگ کی، اس چیز نے اچانک رخ بدلا اور پاکستانی حدود کی طرف بڑھنے لگی، پاکستانی حدود میں داخل ہوتے ہی ہم نے اس شے کو پک کر لیا، بھارت سے آنے والی چیز3 منٹ تک پاکستانی فضائی حدودمیں رہی، یہ چیز شام 6بج کر 50منٹ پر پاکستانی حدود میں گری۔ یہ غیر مسلح سپر سانک شے تھی، اس شے کے گرنے سے سویلین آبادی کو بھی نقصان پہنچا، خوشی قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، پاکستان ایئرفورس نے اس چیز کی مکمل مانیٹرنگ کی، بھارتی چیز کسی بھی حساس جگہ پرنہیں گری۔ فضائی حدود کی خلاف ورزی کی مذمت کرتے ہیں، بھارت کو اس واقعے کی وضاحت دینا ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں