تحریک عدم اعتماد، اسپیکر اسد قیصر قومی اسمبلی کا اجلاس کب بلائیں گے، بڑی خبر آگئی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد پر اسپیکر کو 14مارچ کو اسمبلی اجلاس بلانےکی تجویز دے دی گئی ۔ جیو نیوز نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے وزیراعطم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر بحث اور ووٹنگ کے معاملے پر اسپیکر کو 14 مارچ کو اجلاس بلانے کی تجویز دی ہے اور کہا گیا ہے کہ 3 دن بحث کے بعد 18 مارچ کو ووٹنگ کرادی جائے ۔خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرادی گئی ہے ، حزب اختلاف نے ساتھ ہی قومی

اسمبلی کا اجلاس بلانے کی ریکوزیشن بھی جمع کرائی ہے ، اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کرائی گئی ، حزب اختلاف کی اس عدم اعتماد کی تحریک پر 86 اراکان نے دستخط کیے ہیں ، جن میں پاکستان مسلم لیگ ن ، پیپلزپارٹی اور اے این پی کے اراکین قومی اسمبلی شامل ہیں ۔بتایا گیا ہے کہ قواعد کے تحت ریکوزیشن پر اسمبلی اجلاس 14 دن میں بلانا ہوتا ہے ، اپوزیشن ریکوزیشن کے بعد اسپیکر اب کسی بھی وقت اجلاس بلا سکتے ہیں ، اجلاس بلانے کی حد 14 روز یعنی 22 مارچ بنتی ہے۔ لیگل برانچ حکام نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے اور تحریک عدم اعتماد پیش ہونےکے 3 سے7 روز کے درمیان اس پر ووٹنگ کرانی ہوگی ، اس کے علاوہ آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ اجلاس قومی اسمبلی ہال میں ہی ہوگا ، قومی اسمبلی کا اجلاس سینیٹ ہال یا کسی اور مقام پر بھی ہو سکتا ہے۔ادھر حکومت نے عدم اعتماد کیخلاف 184 ارکان قومی اسمبلی کی حمایت کا دعویٰ کردیا ہے، وفاقی وزیراطلاعات فواد چودھری نے کہا کہ عدم اعتماد کی کامیابی کیلئے اپوزیشن جماعتوں نے 172 ارکان شو کرنے ہیں، پیسوں کی منڈیاں لگانے والوں کے پاس اگر ووٹ پورے ہیں تو میڈیا کے سامنے لے آئیں ، ماضی میں حکمرانوں نے چھانگا مانگا کی سیاست کی، نوازشریف اور آصف زرداری نے ممبران کے ضمیر خریدنے کا آغاز کیا، ان کے پاس چھانگا مانگا ہے نہ ہی ممبر بکنے کو تیار ہے، نوازشریف نے بینظیر حکومت ختم کرنے کیلئے پیسہ چلایا تھا، مولانا فضل الرحمان نے پہلے

93 میں مفادات لیے، سب سے پہلے ڈیزل کے پرمٹس مولانا فضل الرحمان نے لیے۔وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ ایک ننھا منا لیڈر ننھا منا مارچ لے کر اسلام آباد پہنچا، جو ہماری زبان نہیں بول سکتے وہ لوگوں کو کیا سمجھا سکیں گے، سندھ کے این ایف سی کا پیسہ پانی کی طرح بہایا گیا، اتحادی مضبوط حکومت کے ساتھ ہیں اور رہیں گے، انہوں نے دکانیں لگانے کی کوشش کی، 3 ارکان نے وزیراعظم کو بتا دیا، بیوپاری جو سیاست کررہے ہیں ہم اسے مسترد کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں