ن لیگ کے علیم خان اور ترین گروپ سے رابطے، حقیقت کھل کر سامنے آگئی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ ن نے علیم خان اور ترین گروپ سے رابطوں کی تردید کردی ، لیگی رہنماء شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں کہ ترین اور علیم خان گروپ سے رابطہ نہیں ہوا لیکن ہونا چاہیے۔ تفصیلات کے مطابق جیو نیوز کے ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومتی اراکین اپوزیشن کے ساتھ ہیں اور تحریک عدم اعتماد میں ہمارے ساتھ رہیں گے ، اتحادیوں نے ابھی فیصلہ نہیں کیا لیکن رابطے جاری ہیں ، اب وزیراعظم کراچی جا رہے ہیں اس کا مطلب ہے کہ انہیں ایم کیو ایم کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ادھر ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال میں وزیر دفاع پرویز خٹک
بھی متحرک ہو چکے ، وزیر دفاع کی جانب سے ترین گروپ سے رابطہ کر کے پنجاب میں سیاسی تبدیلی کی صورت میں تجاویز مانگی گئی ہیں ، بتایا گیا کہ پرویز خٹک کے رابطے کے بعد جہانگیر ترین گروپ نے اجلاس طلب کیا۔ذرائع کے مطابق ترین گروپ کے اجلاس میں اراکین آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے فیصلہ کریں گے۔دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے صوبے کے نئے حکمران کی دوڑ میں شامل پی ٹی آئی رہنماء علیم خان کی مخالفت کردی ، وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار صوبائی اسمبلی کے اسپیکر چوہدری پرویز الٰہی کے حق میں دستبردار ہونے کو تیار ہیں تاہم انہوں نے وزارت اعلیٰ کی ریس میں شامل پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء علیم خان کی کھل کر مخالفت کردی ، اس حوالے سے پارٹی قیادت کو بھجوائے گئے اپنے ایک پیغام میں انہوں نے کہا کہ علیم خان بطور وزیراعلیٰ کسی صورت قبول نہیں کیوں کہ ارکان اسمبلی کے بھی علیم خان مخالف جذبات ہیں ، اس لیے پرویزالہٰی کو یہ منصب دیا جائے یا میرے پاس ہی رہنے دیا جائے۔اس سے پہلے پاکستان مسلم لیگ ق بھی پنجاب میں نئے وزیراعلیٰ کیلئے علیم خان کی مخالفت کرچکی ہے ، اس سلسلے میں 3 سینئر وزراء نے جب مسلم لیگ ق کے رہنماء مونس الٰہی اور طارق بشیر چیمہ سے ملاقات کی تو وزرا نے وزیراعلیٰ پنجاب کے لئے علیم خان کا نام تجویز کیا لیکن مسلم لیگ ( ق ) کے دونوں سینئر رہنماؤں نے علیم خان کا نام بطور وزیراعلیٰ مسترد کردیا ۔ دنیا نیوز نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ق لیگ کے دونوں رہنماؤں نے وزراء کو جواب دیا کہ پنجاب میں ایسی تبدیلی سے بہتر ہے عثمان بزدار کو ہی رہنے دیا جائے ، علیم خان سے بہتر ہے عثمان بزدار وزیراعلیٰ رہیں ، علیم خان کو آگے لانے پر اتحاد اور خود تحریک انصاف کے معاملات مزید خراب ہوسکتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں