اسمبلی میں بیٹھی ساری اتحادی جماعتیں اور ارکان حکومت سے بیزار ہیں، آصف زرداری

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف زرداری نے کہا ہے کہ اسمبلی میں بیٹھی ساری اتحادی جماعتیں حکومت سے بیزار ہیں، اپوزیشن نے تہیہ کیا کہ اب نہیں تو پھر کبھی نہیں، حالات مزید خراب ہوئے تو کوئی نہیں سنبھال سکے گا، پاکستان کو مشکل سے نکالنے کیلئے سب جماعتوں کوساتھ چلنے کی دعوت دیتے ہیں۔اسلام آباد میں شریک چیئرمین پیپلزپارٹی سابق صدر آصف زرداری، صدر ن لیگ شہبازشریف اور صدر پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی ہے، تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگی،

172 سے زائد ارکان اسمبلی تحریک عدم اعتماد کے حق میں ووٹ دیں گے، اپوزیشن نے عدم اعتماد کا فیصلہ ملک وقوم کے مفاد میں کیا، پی ٹی آئی حکومت نے ساڑھے3 سالوں میں معیشت کا بیڑہ غرق کردیا، عوام مہنگائی اور بےروزگاری سے تنگ ہیں۔صدر مسلم لیگ اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا کہ کل ہماری مشاورت ہوئی، پی ٹی آئی حکومت نے ملکی معیشت کا بیڑہ غرق کردیا، مہنگائی اور بےروزگاری میں بےپناہ اضافہ ہوچکا ہے، آج ہر شخص مہنگائی اور بےروزگاری سے تنگ ہے، حکومت نے قرضے لیکرہماری نسلوں کو گروی رکھ دیا ہے، خارجہ محاذ پر بھی موجودہ حکومت ناکام ہوچکی ہے، پی ٹی آئی حکومت نے سی پیک کو بھی متنازعہ بنانے کی کوشش کی، وزیراعظم نے حالیہ تقریر کے دوران یورپی ممالک کو بھی ناراض کردیا، ہم نے فیصلے ذاتی مفاد کیلئے نہیں کیے،پاکستانی عوام کیلئے کیے ہیں، یہ کہنا کہ میرے خلاف بیرونی سازشیں ہو رہی ہیں سراسر غلط ہے، کیا مہنگائی بیرونی سازش کی وجہ سے ہوئی، معیشت کا بیڑا غرق ہوگیا، کیا یہ بیرونی سازش ہے۔شہبازشریف نے کہا کہ احتساب کے نام پر بدترین انتقام کیا گیا، کیا مہنگائی بیرونی سازش کی وجہ سے ہوئی؟ حکومت نے احتساب کے نام پر بدترین انتقام لیا۔ شریک چیئرمین پیپلزپارٹی اور سابق صدرآصف زرداری نے کہا کہ حقیقت میں صحافت جمہوریت کا بڑا ستو ن ہے، حامد میر آج بحال ہوگیا ہے، جمہوریت میں کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ کسی کی زبان بند کی جائے، مجھ پر بڑی تہمتیں لگائی گئیں لیکن کسی کو کچھ نہیں کہا ۔

اپوزیشن جماعتوں نے اب سوچا کہ اب نہیں تو کبھی نہیں، اگر سلسلہ مزید خراب ہوا تو پھر اس کو کوئی سنبھال نہیں سکے گا، مشاورت کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ کوئی اکیلی جماعت پاکستان کو مشکل سے نہیں نکال سکتی، تمام جماعتوں کو دعوت دیں گے، سب مل کر پاکستان کو مشکلات سے نجات دلائیں گے۔تحریک عدم اعتماد کیلئے 172 سے زیادہ ووٹ لیں گے، اب یہ چاہتے ہیں میں ان کو ساری تعداد بتا دوں، کیا میں نام بھی بتا دوں، اپوزیشن ہی نہیں ساری جماعتیں بے زار ہیں اسمبلی میں بیٹھے ان کے اپنے لوگ اور جماعتیں بھی حکومت سے بیزار ہیں۔غلام اسحاق میرے خلاف تھا، اسٹیبلشمنٹ

بھی خلاف تھی لیکن اس کے باوجود ہم کامیاب ہوئے، لیکن یہ الگ بات کہ غلام اسحاق نے اسمبلی تحلیل کردی، لیکن اب موجودہ صدر کے پاس اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار نہیں چھوڑا گیا۔ صدر پی ڈی ایم اور سربراہ جےیوآئی ف مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ شہباز شریف نے ہم سب کی ترجمانی کی ہے، ساڑھے 3سال میں ملک کو جن حالات کی طرف دھکیلا گیا سب نے دیکھا، عمران خان نے مغربی تہذیب کو پروموٹ کرنے کی کوشش کی، ہمیں شروع سے پتہ تھا کہ یہ مغربی ایجنٹ ہیں، شروع دن سے آج تک اپنے موقف سےایک انچ پیچھے نہیں ہٹے، 2018 کا الیکشن ناجائز تھا، عوامی مینڈیٹ پر

ڈاکہ ڈالا گیا،آج ہرشخص سمجھتا ہے کہ موجودہ حکومت میں ملک انحطاط کی طرف گیا، قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں عدم اعتماد کی تحریک جمع کرا دی ہے، آپ کے دن گنے جاچکے ہیں،قوم سے کیے گئے آپ کے تمام وعدے جھوٹے نکلے، 50لاکھ گھروں کی بات کرکے لوگوں کے 50لاکھ گھر گرا دیئے گئے، ہم نے تمہاری گفتگو پرکبھی یقین نہیں کیا، ہمیں گالیاں دے رہے ہو، ہمارا مقابلہ کر سکتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ پہلے اگر ہمارے ارکان پورے نہیں ہوئے تو اس کا نقصان ہمیں ہی ہوا تھا اس کو زیادہ اجاگر کرنے کی ضرورت نہیں،ہم سب ایک سیاسی فورس ہیں، جمہوری رویے انتقام کی بنیاد پر مرتب نہیں ہوتے، تمام مسائل کو جمہوری رویوں کے ساتھ حل کریں اگر کسی نے غلطی کی ہے تو انتقامی راستہ اختیار نہیں کریں گے بلکہ آئین قانون کے اندر رہتے ہوئے اداروں کی اصلاحات کریں گے تاکہ آئندہ اس طرح کی شکایات نہ ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں