ق لیگ نے پنجاب میں نئے وزیراعلیٰ کیلئے علیم خان کی مخالفت کردی

لاہور ( نیوز ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ ق نے پنجاب میں نئے وزیراعلیٰ کیلئے علیم خان کی مخالفت کردی ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 3 سینئر وزراء نے مسلم لیگ ق کے رہنماء مونس الٰہی اور طارق بشیر چیمہ سے ملاقات کی ، جہاں وزرا نے وزیراعلیٰ پنجاب کے لئے علیم خان کا نام تجویز کیا لیکن مسلم لیگ ( ق ) کے دونوں سینئر رہنماؤں نے علیم خان کا نام بطور وزیراعلیٰ مسترد کردیا ۔ ق لیگ کے دونوں رہنماؤں نے وزراء کو جواب دیا کہ پنجاب میں ایسی تبدیلی سے بہتر ہے عثمان بزدار کو ہی رہنے دیا جائے ، علیم خان سے بہتر ہے عثمان بزدار وزیراعلیٰ رہیں ، علیم خان کو آگے لانے پر اتحاد

اور خود تحریک انصاف کے معاملات مزید خراب ہوسکتے ہیں۔گزشتہ روز پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء اور سابق صوبائی عبدالعلیم خان نے کہا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کیخلاف عدم اعتماد آئی توفیصلہ کریں گے کس کا ساتھ دینا ہے، وزیراعلیٰ بننے کی خواہش پر عمران خان کا ساتھ نہیں دیا تھا، وزیراعلیٰ پنجاب سے بہتر میرے پاس گاڑیاں اور جہاز ہے،پنجاب کے طرز حکمرانی پی ٹی آئی کارکنان کو تشویش ہے، ہم خیال ارکان کو ساتھ ملائیں گے۔انہوں نے جہانگیرترین کی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پچھلا دس سال کا جو دور تھا اس میں پی ٹی آئی کی جدوجہد میں بہت سارے ساتھی عمران خان کے ساتھ تھے، جہانگیرترین کی بہت بڑی خدمات ہیں، ان کی محنت بہت زیادہ ہے، جہانگیرترین نے جس قدر مشکل وقت میں پارٹی کیلئے محنت کی ہم ان کے مشکور ہیں، آج جہانگیرترین خان علیل ہیں میں نے خود کہا آج کی میٹنگ جہانگیرترین کے گھر پر رکھیں ، ہم سب مل کر ان کو پیغام دینا چاہتے ہیں آپ یہاں موجود نہیں لیکن ہم نے بھلایا نہیں ، سیاست مشکل وقت میں دوستوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا نام ہے، جتنے بھی دوست ہیں جو جتنا بھی عرصہ عمران خان کے ساتھ کھڑے رہے وہ سب قابل احترام ہیں ، بدقسمتی سے جہانگیرترین سے حکومت میں کام کیوں نہیں لیا گیا؟ اس کا جواب آج تک پی ٹی آئی کارکنوں کو نہیں دیا گیا ، جہانگیرترین نے عمران خان کی جدوجہد میں بہت زیادہ محنت کی، خون پسینہ بہایا گیا، اس کا بھی آج تک جواب نہیں آیا ، جب حکومتیں بن جاتی ہیں تو کچھ اور لوگ ہی

حکومت میں آجاتے ہیں لیکن جو وفاد ار ہوتے ہیں جنہوں نے ساتھ دیا ہوتا ہے وہ پیچھے چلے جاتے ہیں۔علیم خان نے کہا کہ ہمیں کوئی افسوس نہ ہوتا کہ وہ جماعت جس کیلئے ہم نے محنت کی اگروہ مقبولیت حاصل کررہی ہوتی، لوگوں کی امیدوں پر پورا اتر رہی ہوتی تو ہمیں نظر انداز کرنے پر کوئی دکھ نہ ہوتا، لیکن آج پنجاب میں جس طرزکی حکمرانی ہے، اور حکومت کا کاروبار چل رہا ہے، پی ٹی آئی کے کارکنان کو اس پر تشویش ہے، ہم سب تحریک کا حصہ تھے وہ سب ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوں، یہ ہم خیال دوستوں کا ایک گلدستہ ہے ، 40 سے زائد ارکان اسمبلی کو ملا سب موجودہ حکمرانی پر تشویش ہے، جہانگیرترین واپس آکر قیادت کریں گے، ہم سب نے نئے پاکستان کیلئے جدوجہد کی ہے ، میں سب کو کہنا چاہتا ہوں جنہوں نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا ہماری آخری وقت تک کوشش ہے پی ٹی آئی کو مضبوط اور متحد کریں ، یہ ہم سب کی پارٹی ہے، یہ کسی فرد واحد کی جماعت نہیں ہے، ہم متحد ہوکر پارٹی کو بچانے کی کوشش کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں