جہانگیر ترین گروپ کا حکومت کو بڑاسرپرائز،اپنا مطالبہ سامنے رکھ دیا

لاہور (نیوز ڈیسک ) جہانگیرترین گروپ نے کہا ہے کہ عثمان بزدار قبول نہیں وزیر اعلیٰ پنجاب کو تبدیل کیا جائے، وزیراعلیٰ کی تبدیلی سے کم پر بات نہیں کریں گے، عثمان بزدار کے طرز حکمرانی نے پارٹی کا تشخص تباہ کردیا۔ پی ٹی آئی کے سینئر رہنماء جہانگیرترین کی رہائشگاہ پر ترین گروپ کے ارکان کا اجلاس ہوا، اجلاس میں سیاسی صورتحال اور اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد بارے بات چیت کی گئی۔بتایا گیا ہے کہ ترین گروپ ارکان نے کہا کہ عثمان بزدار کے طرز حکمرانی نے پارٹی کا تشخص تباہ کردیا، جدوجہد اس لیے نہیں کی تھی کہ پارٹی کا امیج خراب کردیا جائے۔

وزیراعلیٰ کی تبدیلی سے کم پر بات نہیں کریں گے۔ آئندہ 48 گھنٹوں میں بڑے فیصلے کریں گے۔اجلاس کے بعد پی ٹی آئی رہنماء علیم خان نے دیگر ارکان کے ہمراہ جہانگیرترین کی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پچھلا دس سال کا جو دور تھا اس میں پی ٹی آئی کی جدوجہد میں بہت سارے ساتھی عمران خان کے ساتھ تھے، جہانگیرترین کی بہت بڑی خدمات ہیں، ان کی محنت بہت زیادہ ہے، جہانگیرترین نے جس قدر مشکل وقت میں پارٹی کیلئے محنت کی ہم ان کے مشکور ہیں، آج جہانگیرترین خان علیل ہیں میں نے خود کہا آج کی میٹنگ جہانگیرترین کے گھر پر رکھیں۔ہم سب مل کر ان کو پیغام دینا چاہتے ہیں آپ یہاں موجود نہیں لیکن ہم نے بھلایا نہیں۔ سیاست مشکل وقت میں دوستوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا نام ہے، جتنے بھی دوست ہیں جو جتنا بھی عرصہ عمران خان کے ساتھ کھڑے رہے وہ سب قابل احترام ہیں۔ بدقسمتی سے جہانگیرترین سے حکومت میں کام کیوں نہیں لیا گیا؟ اس کا جواب آج تک پی ٹی آئی کارکنوں کو نہیں دیا گیا ، جہانگیرترین نے عمران خان کی جدوجہد میں بہت زیادہ محنت کی، خون پسینہ بہایا گیا، اس کا بھی آج تک جواب نہیں آیا ، جب حکومتیں بن جاتی ہیں تو کچھ اور لوگ ہی حکومت میں آجاتے ہیں لیکن جو وفاد ار ہوتے ہیں جنہوں نے ساتھ دیا ہوتا ہے وہ پیچھے چلے جاتے ہیں۔ہمیں کوئی افسوس نہ ہوتا کہ وہ جماعت جس کیلئے ہم نے محنت کی اگروہ مقبولیت حاصل کررہی ہوتی، لوگوں کی امیدوں پر پورا اتر رہی ہوتی تو ہمیں نظر انداز کرنے پر کوئی دکھ نہ ہوتا، لیکن آج پنجاب میں جس طرزکی

حکمرانی ہے، اور حکومت کا کاروبار چل رہا ہے، پی ٹی آئی کے کارکنان کو اس پر تشویش ہے، ہم سب تحریک کا حصہ تھے وہ سب ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوں، یہ ہم خیال دوستوں کا ایک گلدستہ ہے۔40سے زائد ارکان اسمبلی کو ملا سب موجودہ حکمرانی پر تشویش ہے،جہانگیرترین واپس آکر قیادت کریں گے، ہم سب نے نئے پاکستان کیلئے جدوجہد کی ہے۔ میں سب کو کہنا چاہتا ہوں جنہوں نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا ہماری آخری وقت تک کوشش ہے پی ٹی آئی کو مضبوط اور متحد کریں۔ یہ ہم سب کی پارٹی ہے، یہ کسی فرد واحد کی جماعت نہیں ہے، ہم متحد ہوکر پارٹی کو بچانے کی کوشش کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ کسی طاقتور حکمران کے خلاف جب اس کا وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب بھی ہو، اس کیخلاف لاہور میں کھڑا ہوناآسان نہیں ہے، ہم نے وہ وقت بھی بڑے حوصلے ساتھ گزارا ، وہ وقت ایک جذبے کے ساتھ گزارا تھا،وہ لوگ جو نئے پاکستان کی تحریک میں شامل ہوئے تھے وہ کسی سیٹ یا عہدے کیلئے شامل نہیں ہوئے تھے، وزیراعلیٰ پنجاب سے بہتر میرے پاس گاڑیاں اور جہاز ہے۔مجھے وزیراعلیٰ بننے کی خواہش پر عمران خان کا ساتھ نہیں دیا تھا، عمران خان کا ساتھ اس لیے دیا کہ وہ پاکستان میں ایک واحد امید تھی۔ میں آج پارٹی اور موجودہ سیاسی صورتحال کو دیکھ کر فعال ہوا ہوں۔ اگر وزیر اعلیٰ پنجاب کیخلاف عدم اعتماد آتی ہے توجہانگیرترین سے مل کر فیصلہ کریں گے کس کا ساتھ دینا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں