پہلی بار ان افراد کو کٹہرے میں لائے جنہیں ماضی میں کوئی بلا بھی نہیں سکتا تھا ، چیئرمین نیب

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا ہے کہ پہلی بار ان افراد کو کٹہرے میں لائے جنہیں ماضی میں کوئی بلا بھی نہیں سکتا تھا ، 179 میگا کرپشن مقدمات میں سے 66 کو منطقی انجام تک پہنچا دیا ، 94 میگا کرپشن کیسز متعلقہ احتساب عدالتوں میں زیر سماعت ہیں ، نیب کی موجودہ انتظامیہ کے دور میں اکتوبر 2017ء سے 31 دسمبر 2021ء کے دوران 1405ملزمان کو معزز احتساب عدالتوں نے سزا سنائی ۔تفصیلات کے مطابق اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ نیب منی لانڈرنگ ،جعلی اکاو نٹس ، آمدنی سے زائد اثاثے، عوام سے بڑے

پیمانے پر دھوکہ دہی، ہائوسنگ سوسائٹیز اور مضاربہ جیسے میگاکرپشن کیسز کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لا رہا ہے بدعنوانی ملکی ترقی اور خوشحالی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، نیب اقوام متحدہ کے انسداد بدعنوانی کنونشن کے تحت پاکستان کا فوکل ادارہ کے علاوہ احتساب سب کیلئے کی پالیسی پر سختی سے پیرا ہے تاکہ پاکستان کو کرپشن فری ملک بنانے میں مدد مل سکے ، نیب سارک اینٹی کرپشن فورم کا چیئرمین ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے پاکستان میں جاری سی پیک منصوبوں کی نگرانی کے لئے چین کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں ، نیب نے ٹھوس شواہد اور دستاویزی ثبوت کی بنیاد پر انکوائریوں اور انویسٹی گیشن میں بہتر ی لانے کے لئے اورسینئر سپر وائزری کی اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھانے کے لئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نظام وضع کیا ہے ، نیب نے جدید فرانزک سائنس لیبارٹری قائم کی ہے جس میں ڈیجیٹل فرانزک ، سوالیہ دستاویزات اور فنگر پرنٹ کے تجزیے کی سہولت موجود ہے ، ان اقدامات سے نیب کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے ، نیب کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے جامع معیاری مقداری نظام وضع کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں