تحریک عدم اعتماد ناکام ہونے پر چوروں کیساتھ جو کروں گا اس کیلئے وہ تیار ہوجائیں،وزیراعظم کا اپوزیشن کو چیلنج

وزیراعظم عمران خان نے میلسی میں جلسہ عام سے خطاب اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک جب ناکام ہوئی تو کیا آپ تیار ہیں جو میں آپ کے ساتھ کروں گا۔میلسی میں جلسہ عام سے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ قومی اسمبلی میں جلد جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کی آئینی ترمیم لائیں گے اور اب دیکھتے ہیں کہ پی پی پی اور ن لیگ جنوبی پنجاب صوبے پر ہماری حمایت کریں گے یا نہیں، یہ سب کے سامنے آ جائے گا۔انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کیلئے 500 ارب روپے مزید خرچ کریں گے، ہماری پالیسیوں سے کسانوں کو زیادہ فائدہ ہوا ہے، چین سے ایک لاکھ

ٹن کھاد منگوائی ہے جو کہ ایک ہفتے میں پہنچ رہی ہے، ہم دنیا کے مقابلے میں پاکستانیوں کو سستی کھاد دے رہے ہیں، اس پر سبسڈی دے رہے ہیں۔جلسہ عام سے خطاب میں وزیراعظم کا کہنا تھاکہ نہ آج تک عمران خان کسی کے سامنے جھکا ہے اور جب تک میں زندہ ہوں، اپنی قوم کو کسی کے سامنے نہیں جھکنے دوں گا۔ان کا کہنا تھاکہ یورپی یونین سے پوچھتا ہوں کہ جو خط آپ نے ہمیں لکھا ہے کیا وہ آپ نے بھارت کو بھی لکھا ہے؟ ماضی میں نیٹو کا ساتھ دینے سے پاکستان کو کیا ملا؟ 80 ہزار لوگوں کو جانیں گئیں اور ملک کو 100 ارب سے زیادہ کا نقصان ہوا، کیا یورپی سفیروں نے ہمارا شکریہ ادا کیا جو کچھ ہم نے ان کیلئے کیا؟وزیراعظم کا کہنا تھا کہ افغان جنگ میں جب ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے کیا آپ نے ہمارا شکریہ ادا کیا بلکہ آپ نے تو ہمیں اپنی ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایا، جب بھارت نے کشمیر میں عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی تو کیا آپ نے بھارت سے رابطہ توڑا، تجارت بند کی؟ بھارت پر تنقید کی؟ جلسہ عام میں عمران خان نے یورپی سفیروں سے سوال کیا کہ کیا ہم آپ کے غلام ہیں کہ آپ جو کہیں گے وہ ہم کر لیں گے؟ انہوں نے مزید کہا کہ ماضی کے حکمرانوں کو کوئی شرم نہیں آئی جب ڈرون حملوں میں ہمارے شہری مر رہے تھے؟ یہ دونوں ڈاکو اس لیے نہیں بول رہے تھے کیونکہ ان چوروں کو بیرون ملک اپنا پیسے کی فکر تھی، ماضی میں پیسے کی پوجا کرنے والے چپ رہے اور ہمارے بے قصور لوگ ڈرون حملوں میں مرتے رہے۔وزیراعظم نے جلسے کے شرکا سے پوچھا کہ جب سے عمران

خان وزیراعظم بناکوئی ڈرون حملہ ہوا؟ اگر کسی نے پاکستان پر ڈرون حملہ کرنے کی کوشش کی تو پاکستان کی ائیر فورس کو کہوں گا یہ اُس ڈرون کو گرا دے۔عمران خان کا کہنا تھاکہ ہم کسی سے دشمنی نہیں چاہتے ہم سب سے دوستی چاہتے ہیں، ہماری روس، امریکا، چین اور یورپی یونین سب سے دوستی چاہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ روس یوکرین کی جنگ بند ہو تاکہ لوگوں کا نہ نقصان ہو، جنگ میں کسی کا ساتھ نہیں دیں گے لیکن امن میں سب کا ساتھ دیں گے۔وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن رہنماؤں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور تقریر میں ان کے نام بھی بگاڑتے رہے۔ ان کا کہنا تھاکہ مجرم

نمبر ون نواز شریف جو جھوٹ کر بالی وڈ کی اداکاری کرکے ملک سے باہر چلا گیا، ماضی میں اٹک جیل سے جھوٹ بول کر نواز شریف بھاگا تھا، ملک کا تین مرتبہ کا وزیر اعظم اور اس کے بچے اربوں روپے کے محل میں رہتے ہیں، جب پوچھتے ہیں کہ پیسہ کہاں سے آیا تو کہتے ہیں کہ ہم تو ملک سے باہر رہتے ہیں، یہ لوگ صرف ملک کو لوٹنے کے آتے ہیں اور پھر چلے جاتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ دوسرا مجرم ہے شہباز شریف ہے، اگر شہباز شریف کا پتہ کرنا ہے تو مقصود چپڑاسی کو لے آئیں جس کے اکاؤنٹ میں 375 کروڑ روپے آئے، ان لوگوں نے کھیل لگایا ہوا ہے، بھگوڑا اور اس

کی بیٹی فوج کو برا بھلا کہتے ہیں اور شہباز شریف کو جو بھی بوٹ نظر آتا ہے اس بوٹ کی پالش شروع کر دیتا ہے، شہباز شریف ڈرا ہوا ہے کہ اسے جیل جانا ہے اس لیے جلدی جلدی عدم اعتماد میں لگا ہوا ہے۔سابق صدر آصف زرداری کو تنقید کا نشان بناتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھاکہ زرداری کو آئے ایک سال نہیں ہواکہ دنیا میں ٹین پرسنٹ کی دھوم مچ گئی، کتابوں اور مضامین پر ان کی چوری کا ذکر ہوا،فلمیں بنیں، حدیبیہ پیپر ملز کا مقدمہ زرداری نے بنایا، زرداری نے سرے محل بیچ کر پیساپاکستان بھجوایا، پرویز مشرف نے این آر او دیا رو زرداری نے وہ پیسہ بھی ہضم کرلیا۔عمران خان

نے اپوزیشن اتحاد کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا نام بگاڑتے ہوئے تنقید کی اور کہا کہ ’چوتھے نمبر پر فضلو ہے، انہیں کبھی مولانا نہیں کہوں گا، مولانا پڑھے لکھے لوگ ہوتے ہیں‘۔انہوں نے مزید کہا کہ ’فضل الرحمان ڈیزل پرمٹ بیچ کر پیسے بناتاہے، فضلو بتاؤ ان ڈاکوؤں کے ہوتے ہوئے یہودیوں کو سازش کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ فضلو آپ کی اور میری عمر ایک ہے، ہمیں سوچنا چاہیے اوپر والا کب بلاوا دے دے، فضلو آپ کا وزن بھی ذرا زیادہ ہے، آپ کو خوف خدا نہیں، آپ مدرسے کے بچوں کو سیاست چمکانے اوربلیک میل کرنے کیلئےاستعمال کرتے ہیں، یہ چار لوگ مل کر عدم اعتماد

کر رہے ہیں‘۔تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ چار لوگ مل کر عدم اعتماد کر رہے ہیں، یہ چوروں کا ٹولہ 35سال سے قوم کو نقصان پہنچا رہاہے، ہم برصغیر میں سب سے آگے تھے، جب چوروں کا ٹولہ ملک پر مسلط ہواہم سب سے پیچھے رہ گئے۔انہوں نے کہا کہ جب تک مجھ میں خون ہے، ان کا مقابلہ کروں گا، میری پوری تیاری ہے یہ جوبھی کریں گے میں مقابلہ کروں گا، یہ چوروں کا ٹولہ ہے، یہ ڈاکوؤں کا گلدستہ ہے، عدم اعتماد کی تحریک جب ناکام ہوئی تو کیا آپ تیار ہیں جو میں آپ کے ساتھ کروں گا۔

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button