موٹروے کیس،گرفتار 2 افراد کو رہا کر دیا گیا

لاہور(نیوز ڈیسک) سانحہ گجر پورہ، گرفتار 2 افراد کو رہا کر دیا گیا، رہا کیے گئے افراد گرفتار مشتبہ ملزم وقار الحسن کے رشتے دار ہیں، وقار کو بھی ڈین اے ٹیسٹ کی رپورٹ آنے کے بعد رہا کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق سانحہ گجر پورہ کی تفتیش کے دوران پولیس کی جانب سے اہم فیصلہ کیا گیا ہے۔ پولیس اس کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں کئی افراد کو گرفتار کر چکی ہے۔اب گرفتار افراد میں سے 2 کو رہا کر دیا گیا ہے۔ پولیس کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ سانحہ گجر پورہ کے مشتبہ ملزم وقار الحسن کے 2 رشتے داروں کو رہا کیا گیا ہے۔ مکمل چھان بین کے نتیجے میں رہا

کیے جانے والے دونوں افراد کا کیس سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا۔ جبکہ خود کو پولیس کے حوالے کرنے والے وقار الحسن کی ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ کے بعد وقار الحسن کو حراست میں رکھنے یا نہ رکھنے کے حوالے سے حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ مزید بتایا گیا ہے کہ منگل کے روز کیس کی تفتیش کے دوران اہم پیش رفت تب ہوئی جب متاثرہ خاتون نے ملزمان شفقت اور عابد کی شناخت کر لی۔ منگل کے روز ملزمان کی شناخت پریڈ کے لیے جیل میں خصوصی انتظام کیا گیا تھا تاہم خاتون نے جیل میں آنے سے انکار کر دیا جس کے بعد خاتون کو ملزمان کی تصاویر بھیجی گئیں۔متاثرہ خاتون نے تصاویر دیکھ کر ملزمان کی شناخت کر لی اور پھر وزیر اعظم عمران خان سے ملزمان کو پھانسی کی سزاء دینے کا مطالبہ کیا۔ جبکہ دوسری جانب انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سانحہ موٹروے کے ملزم شفقت کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔ ملزم شفقت نے دوران حراست پولیس کو دیے گئے بیان میں سانحہ گجر پورہ کی واردات کی تمام تفصیلات بیان کیں۔ اس کیس میں ملوث ایک اور ملزم اقبال عرف بالا کو بھی منگل کے روز گرفتار کر لیا گیا۔ جبکہ پولیس اور حکومت پنجاب کا دعویٰ ہے کہ مرکزی ملزم عابد علی کو ٹریس کیا جا رہا ہے، اسے جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.