پاکستان کےسیاسی نقشے پر اعتراض ، شنگھائی سکیورٹی ایڈوائزرز اجلاس میں اجیت دوول کوناکامی کا سامنا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)بھارت کو عالمی سطح پر ایک اور شکست کاسامنا کرنا پڑگیا ، سیکیورٹی ایڈوائزرز کےاجلاس میں اجیت دوول کا پاکستان کے سیاسی نقشے پر اعتراض مسترد کردیا گیا ۔ میڈیا ذرائع کے مطابق شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے سیکیورٹی ایڈوائزرز کا آن لائن اجلاس ہوا ، جس میں پاکستان کی نمائندگی وزیراعظم عمران خان کے سکیورٹی ایڈوائزر معید یوسف نے کی ، معید یوسف نے ویڈیو لنک اجلاس کے دوران پس منظر میں نیا نقشہ لگایا ہوا تھا جس پر بھارتی مشیرقومی سلامتی اجیت دوول کی طرف سے پاکستان کے سیاسی نقشے پر اعتراض کیا گیا تاہم اس موقع پر شنگھائی تعاون تنظیم

کے رکن ممالک نے کشمیر سے متعلق پاکستانی مؤقف کی تائید کردی ۔واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کا سیاسی نقشہ جاری کیا تھا ۔پاکستان نے ملک کا نیا سیاسی نقشہ جاری کردیا،بھارتی غیر قانونی مقبوضہ کشمیرکو پاکستان کا حصہ ظاہر کردیا گیا۔ وفاقی کابینہ نے پاکستان کے نئے نقشے کی منظوری دے دی، نیا نقشہ اقوام متحدہ میں پیش کیا جائے گا۔سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر و قائد مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان نے کہا ہے کہ پاکستان کا نیا سیاسی نقشہ جموں وکشمیر کے عوام کے جذبات کا ترجمان اور آئینہ دار ہے،5 اگست کا دن ہندوستان کے ماتھے اور دامن پر سیاہ ترین داغ کی حیثیت رکھتا ہے۔5 اگست کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ 5اگست کشمیر کی تاریخ میں ہندوستان کا ظلم نو اور یوم استحصال کے طور پر جانا جائیگا۔ سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ 5اگست کے روز کامل یکجہتی کے اہتمام پر کشمیری عوام اہل پاکستان ، افواج پاکستان اور حکومت پاکستان کے شکر گزار ہیں،کشمیر عوام نے قیام پاکستان سے بھی پہلے اپنی سیاسی تقدیر کو پاکستان کے ساتھ وابستہ کردیا تھا،مسلم کانفرنس کی قرار داد الحاق پاکستان درحقیقت کشمیری عوام کا پاکستان کے حق میں ریفرنڈم ہے،نئے سیاسی نقشے کا اجراء ایک مضبوط اور جاندار قومی کشمیر پالیسی کی بنیاد ثابت ہوگا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.