مجھے کوئی بلیک میل نہیں کرسکتا، وزیراعظم کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں گفتگو

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مجھے کوئی بلیک میل نہیں کرسکتا، میرے کوئی کارخانے نہیں، میر اکوئی ذاتی مفاد نہیں ، میری جنگ ملکی مفاد کیلئے ہے، میں ہر روز آئی ایم ایف سے کہہ رہا ہوں ٹیکس کم کریں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی زیرصدارت منی بجٹ کے حوالے سے پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، اجلاس میں مہنگائی سمیت بجلی اور گیس سے متعلق سوالات کیے گئے۔اجلاس میں وزیردفاع پرویز خٹک نے وزیراعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو وزیراعظم ہم نے بنایا لیکن خیبرپختونخواہ میں گیس پر پابندی ہے،

گیس پیدا بھی ہم کرتے ہیں اور گیس کے بحران کی وجہ سے پِس بھی ہم رہے ہیں،آپ کا رویہ یہی رہا تو ووٹ نہیں دے سکیں گے۔جس پر وزیراعظم عمران خان نے پرویز خٹک کو جواب دیا کہ آپ مجھ سے مطمئن نہیں تو حکومت کسی اورکودے دیتا ہوں،حکومت کو عوام کی مشکلات کا اندازہ ہے، منی بجٹ میں اضافی ٹیکس نہیں لگائیں گے جس کا عوام پر بوجھ نہیں پڑے گا۔جیو نیوز کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پرویز خٹک مجھے بلیک میل مت کرو، ووٹ نہیں دینا تو نہ دو، مجھے کوئی بلیک میل نہیں کرسکتا، میرے کوئی کارخانے نہیں ، میں ملک کی جنگ لڑ رہا ہوں ، میر اکوئی ذاتی مفاد نہیں، میری جنگ ملکی مفاد کیلئے ہے، انہوں نے کہا کہ ہم گیس کی قلت کو ختم کرنے کیلئے اقدامات کررہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آپ نے مجھے سب کے سامنے بلیک میل کیا ہے، اگر اسی طرح کی بلیک میلنگ کی گئی تو آپ اپوزیشن کو کہہ دیں وہ آکر حکومت کرلیں۔میری کوئی جائیداد بھی نہیں ہے اور میں ہر روز آئی ایم ایف سے کہہ رہا ہوں ٹیکس کم کریں۔ اس موقع پرپارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اراکین نے وزیراعظم عمران خان ، شوکت ترین اور حماد اظہر سے سوالات کیے،ارکان نے کہا کہ گیس کی قلت کیسے پوری کی جائے، اجلاس میں پرویز خٹک اور حماد اظہر کے درمیان گیس کے معاملے پر تلخی کلامی بھی ہوئی۔پرویز خٹک خیبر پختونخواہ میں گیس بحران پر وزیراعظم عمران خان سے بات کررہے تھے کہ درمیان میں حماد اظہر بول پڑے جس پر پرویز خٹک نے کہا کہ آپ بیچ میں مت بولیں میں وزیراعظم

سے بات کررہا ہوں۔ پرویز خٹک اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے، جس پر سٹاف پرویز خٹک کو ڈھونڈتا رہا، وزیراعظم کے بلانے پر پرویز خٹک اجلاس میں واپس آئے اور کہا کہ اجلاس میں دیرینہ مسئلے پر بات کی، میری کوئی کسی سے تلخ کلامی نہیں ہوئی، اجلاس سے اٹھ کر میں باہرسگریٹ پینے گیا تھا اپنے حق کی بات کی۔اجلاس میں نورعالم نے سوال کیا کہ اسٹیٹ بینک کی خودمختاری سے سلامتی ادارے تو متاثر نہیں ہوں گے؟ کیا سلامتی اداروں کے اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی آئی ایم ایف کو دیں گے؟ جس پر وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ سلامتی اداروں کا تحفظ ہرصورت یقینی بنانا حکومت کی ترجیح ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں