3 ماہ میں لاہور کا حلیہ بدل دوں گا، سی سی پی او لاہور عمر شیخ کا عدالت میں بیان

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے سانحہ موٹروے پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے لیے درخواست پر سماعت کی۔سی سی پی او لاہور نے ہائیکورٹ میں چیف جسٹس کے رو برو بھی معافی مانگ لی۔انہوں نے مزید کہا کہ ایسا بیان نہیں دینا چاہیے تھا،بزرگ اور باپ کی حیثیت سے بیان دیا۔کیس ٹریس ہو گیا ہے،اور دو تین دن میں یہ کیس حل ہو جائے گا۔پولیس 20 منٹ میں جائے وقوع پر پہنچ گئی تھی۔جس مقام پر یہ واقع پیش آیا،وہاں پولیس تعینات نہیں تھی۔ی۔سماعت کے دوران چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد قاسم خان نے فوری طور پر ملزمان کو گرفتارکرنے کا حکم دیا ہے۔

چیف جسٹس نے تفتیش کی تفصیلات بھی عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے عدالت میں یہ بھی کہا کہ ماروائے عدالت کی کوئی بات نہ ہو۔بڑے سے بڑے جرم کے خلاف بھی ماروائے عدالت اقدام کہ اجازت نہیں دیں گے۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے سی سی پی او کو طلب کرنے کے ساتھ ساتھ کیس کی تحقیقاتی رپورٹ مانگ لی۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ لاہور موٹروے زیادتی کیس میں سی سی پی اور کابینہ کو معافی مانگنی چاہئیے۔ ملزموں کو گرفتار کر کے قانون کے مطابق کاروائی ہونی چاہئیے۔آجی پنجاب انعام غنی سے تمام شاہراہوں پر سیکیورٹی کا ریکارڈ طلب کیا گیا ہے۔ آئی پنجاب انعام غنی سے پنجاب بھر کی سڑکوں کا سیکیورٹی پلان بھی طلب کیا گیا ہے۔چیف جسٹس نے حکم دیا کہ سینئر افسران روزانہ دو گھنٹے پٹرلنگ کریں۔انہوں نے کہا کہ یہاں پولیس افسر گھر کھانا کھا رہے ہوتے ہیں اور وائر لیس کر دیتے ہیں کہ ڈیوٹی پر رہیں۔چیف جسٹس نے حکم دیا کہ ملزموں کو گرفتار کر کے قانون کے مطابق کاروائی کی جائے۔سانحہ موٹروے پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے لیے درخواست کی سماعت بدھ تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.