بلال یاسین پر فائرنگ کرنے والے موٹرسائیکل سوارکون تھے؟شناخت ہوگئی

کراچی (نیوز ڈیسک)مسلم لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی بلال یاسین پر قاتلانہ حملے کرنے والوں کی شناخت کرلی گئی ، کیمروں کی مدد سے حملہ آوروں کی شناخت ہوئی۔ تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی بلال یاسین پر قاتلانہ حملے کی تحقیقات جاری ہے ، سیف سٹی ڈیپارٹمنٹ نے حملہ آوروں کی شناخت کرلی ، کیمروں کی مدد سے 2 موٹرسائیکل سوارحملہ آوروں کی شناخت کی گئی۔پولیس نے بتایا کہ سیف سٹی کیمرے جائے وقوعہ پر نہیں لگے تھے ، سیف سٹی کیمرے وقوعہ سے کچھ دورمرکزی شاہراہ پر لگے تھے ، ملزمان فرارہوئے تو سیف سٹی کیمروں کی رینج میں آئے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لیگی رہنما بلال یاسین کے بیان کے بعد پولیس تحقیقات آگے بڑھائے گی، اس حوالے سے سی سی پی او لاہورنے ٹیم تشکیل دے دی ۔دوسری جانب ایم پی اے بلال یاسین پر قاتلانہ حملے کا مقدمہ 13 گھنٹے گزرنے کے بعد بھی درج نہیں کیا جا سکا، پولیس نے کہا کہ مقدمہ بلال یاسین کے بیان کے بعد درج ہوگا۔بلال یاسین حملہ کیس میں سی ٹی اسکین رپورٹ سامنے آگئی ، ایم ایس ڈاکٹر افتخار کا کہنا ہے کہ بلال یاسین کی حالت خطرے سے باہر ہے ، ٹانگ کی ہڈی فریکچرہوئی،آپریٹ کردیا ہے۔مسلم لیگ ن کے رہنما بلال یاسین پر گذشتہ روز قاتلانہ حملہ ہوا جس کے بعد انہیں شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ کنسلٹنٹ آرتھوپیڈک سرجن میو اسپتال کا کہنا ہے کہ بلال یاسین کو آپریشن کے بعد ایمرجنسی آپریشن تھیٹر سے سرجیکل ٹاور منتقل کر دیا گیا ہے۔ان کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔ ڈاکٹر کے مطابق بلال یاسین دو دن آئی سی یو میں رہیں گے۔ جس کی بعد وارڈ میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ بلال یاسین کو دو طرح کے زخم لگے ہیں۔ ڈاکٹرز نے بتایا کہ بلال یاسین کو ٹوٹل دو گولیاں لگیں تھیں۔ حملے میں ایک گولی بلال یاسین کے پیٹ کو چھو کر گزری ہے، زخم کی پٹی کر دی گئی ہے۔ بلال یاسین کی ہڈی پر لگنی والی گولی کا زخم زیادہ گہرا تھا۔ ڈاکٹرز کے مطابق شک ہے کہ ہڈی پر لگنے والا گولی کے دو ٹکرے ہوئے ہیں،ایک ٹکرا نکال دیا ہے۔ ایکسرے کے بعد دوسرے ٹکرے کے حوالے سے واضح فیصلہ کر سکیں گے۔زخم بھرنے میں چھ سے نو ماہ لگ سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں