وزیرخارجہ کے سعودی سفیر کے سامنے بیٹھنے کے اندازپر علامہ طاہر اشرفی کاردعمل

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو سعودی سفیر کے ساتھ ملاقات میں غیر رسمی انداز میں بیٹھنا مہنگا پڑ گیا تھا،سوشل میڈیا پر شاہ محمود کے اس انداز پر بہت تنقید کی گئی تاہم اب اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے بین المذاہب ہم آہنگی و مشرقِ وسطی طاہر اشرفی کی جانب سے وضاحتی بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے وزیر خارجہ کی اس حرکت کا دفاع کرنے کی کوشش کی ہے۔طاہر اشرفی نے کہا کہ سعودی سفیر کا سرکاری عوامی سطح پر بہت احترام کیا جاتا ہے۔ شاہ محمود قریشی کی کمر کا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے وہ اکثر ایسے ہی بیٹھے دکھائی دیتے ہیں۔

رسمی ملاقاتوں میں بیٹھنے کا انداز مختلف ہوتا ہے مگر شاہ محمود قریشی کمر کی وجہ سے ایسے ہی بیٹھتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سعودی سفیر گزشتہ سات سال سے پاکستان میں ہیں۔پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کی گواہی پوری دنیا دیتی ہے ۔دونوں ملکوں کی دوستی کو پسند نہ کرنے والے لوگوں نے اس تصویر کو متنازعہ بنانے اور معاملے کو اچھالنے کی کوشش کی۔خیال رہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا سعودی ہم منصب کے ساتھ بیٹھنے کے انداز پر سعودی شہریوں نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ شاہ محمود قریشی کے سعودی سفیر کے ساتھ رسمی ملاقات میں غیر رسمی انداز میں بیٹھنے پر سوشل میڈیا پر مختلف تبصروں کا تانتا بندھ گیا ہے۔صارفین کا کہنا ہے کہ پاؤں کا رخ مہمان کی جانب کرنا مہمان کی توہین ہے، یہ انداز احترام کی نشاندہی نہیں کرتا۔اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی صارفین نے بھی وزیر خارجہ کے بیٹھنے کے انداز کو نامناسب قرار دیا۔ایک صارف نے کہا کہ مہمان کی طرف پاؤں کر کے بیٹھنا نہایت بدتہزیبی ہے ۔ انسان چاہے کسی بھی عہدے پر ہو اسے تمیز کرنی چاہیے۔ایک صارف نے کہا کہ شاہ صاحب کو مریدین اور سفیروں کے سامنے بیٹھنے کا طریقہ سیکھنا چاہیے۔وزرات خارجہ ان کو پروٹوکول کی تربیت دے۔اس سے قبل چینی وفد سے ملاقات میں بھی شاہ محمود قریشی کے بیٹھنے کا انداز توجہ کا مرکز بنا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں