قاتلانہ حملے کے بعد بلال یاسین کا پہلا ویڈیو بیان سامنے آگیا

لاہور (نیوز ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی بلال یاسین کا قاتلانہ حملے کے بعد پہلا بیان سامنے آ گیا۔ تفصیلات کے مطابق رکن پنجاب اسمبلی بلال یاسین نے میوہسپتال میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ میں معمول کے مطابق نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد اپنے حلقے میں گھوم رہا تھے کہ اچانک 2 لوگ آئے ، وہ سمجھے کہ یہ پولیس والے ہیں ،انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں پتا تھا کہ وہ مجھے مارنے آئے ہیں۔خیال رہے کہ گذشتہ روز پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور رکن پنجاب اسمبلی بلال یاسین پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ جس کے بعد ان کی حالت اور تمام واقعے سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آگئیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایم ایس میو اسپتال نے بتایا کہ بلاول یاسین کو 2 گولیاں پیٹ اور 1 گولی ٹانگ میں لگی ، وہ اس وقت ایمرجنسی میں زیر علاج ہیں، رکن اسمبلی کے پیٹ اور ٹانگ سے بذریعہ آپریشن گولیاں نکالی جائیں گی۔ایم ایس میو اسپتال کے مطابق بلال یاسین کے علاج کے لیے سینئر سرجنز کو ہنگامی طور پر طلب کیا گیا جس کے بعد وہ اسپتال پہنچ چکے۔ جبکہ مسلم لیگ ن کی سینئیر نائب صدر مریم نواز کی جانب سے بتایا گیا کہ بلال یاسین کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف نے بلال یاسین پر قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بلال یاسین پر فائرنگ دہشت گردی ہے، مجرموں کو فی الفور گرفتار کرکے قانون کے مطابق سزا دی جائے۔بلال یاسین کی زندگی اور صحت کے لئے فکر مند ہوں، اللہ تعالیٰ انہیں صحت کاملہ عطا فرمائے ۔ پارٹی کارکنان اور قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ بلال یاسین کی زندگی اور صحت کے لئے دعا فرمائیں۔ دوسری جانب پولیس کی جانب سے بتایا گیا کہ 2 نقاب پوش نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے بلاول یاسین پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں انہیں 2 گولیاں پیٹ اور ایک گولی ٹانگ میں لگی۔ حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہو گئے۔ بلاول یاسین موٹرسائیکل پر مسلم لیگ ن ہاوس جا رہے تھے جب راستے میں ان پر حملہ کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں